وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: An-Nahl ۱۲۰:۱۶

۱۲۰:۱۶
ان ابراهيم كان امة قانتا لله حنيفا ولم يك من المشركين ١٢٠
إِنَّ إِبْرَٰهِيمَ كَانَ أُمَّةًۭ قَانِتًۭا لِّلَّهِ حَنِيفًۭا وَلَمْ يَكُ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ١٢٠
إِنَّ
إِبۡرَٰهِيمَ
كَانَ
أُمَّةٗ
قَانِتٗا
لِّلَّهِ
حَنِيفٗا
وَلَمۡ
يَكُ
مِنَ
ٱلۡمُشۡرِكِينَ
١٢٠
بی‌گمان، ابراهیم پیشوایی فروتن در برابر الله [و] حقگرا بود و [هرگز] در زمرۀ مشرکان نبود.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

قرآن کریم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بطور نمونہ ہدایت ، مجسمہ انابت اور صبرو شکر کا پیکر اور مطیع اور عبادت گزار بنا کر پیش کرتا ہے۔ یہاں کہا جاتا ہے کہ وہ امت تھے ، یعنی ان کے اندر جو اطاعت ، انابت اور شکر و برکت تھی وہ پوری امت کے برابر تھی۔ یا اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ امام ہدایت تھے…مفسرین سے دونوں مفہوم مروی ہیں۔ اور دونوں مفہوم ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ کیونکہ جو امام ہدایت کی راہ دکھائے وہی امت کا قائد ہوتا ہے اور ایسے امام کو ان تمام لوگوں کے اعمال کا ثواب بھی ملے گا جن کو اس نے ہدایت کا راستہ دکھایا۔ اس طرح یہ راہنما بذات خود ایک امت بن جاتا ہے۔ وہ فرد واحد نہیں رہتا۔

قائنا للہ (61 : 021) کا مفہوم ہے اطاعت گزار ، خشوع کرنے والا اور عبادت کرنے والا۔

حنیفا (61 : 021) کا مفہوم ہے حق کی طرف متوجہ ہونے والا۔ سچائی کا قلبی میلان رکھنے والا۔

ولم یک من المشرکین (61 : 021) ” وہ مشرکین میں سے نہ تھے “۔ لہٰذا مشرکین کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنا تعلق ان سے ظاہر کریں۔ نہ اپنے آپ کو ان کے ذریعے متبرک بنائیں۔