وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: An-Najm ۲۸:۵۳

۲۸:۵۳
وما لهم به من علم ان يتبعون الا الظن وان الظن لا يغني من الحق شييا ٢٨
وَمَا لَهُم بِهِۦ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ ۖ وَإِنَّ ٱلظَّنَّ لَا يُغْنِى مِنَ ٱلْحَقِّ شَيْـًۭٔا ٢٨
وَمَا
لَهُم
بِهِۦ
مِنۡ
عِلۡمٍۖ
إِن
يَتَّبِعُونَ
إِلَّا
ٱلظَّنَّۖ
وَإِنَّ
ٱلظَّنَّ
لَا
يُغۡنِي
مِنَ
ٱلۡحَقِّ
شَيۡـٔٗا
٢٨
آنان در موردِ این امر، [کاملاً] بى‌اطلاعند [و] فقط از حدس و گمان پیروی می‌کنند؛ در حالى كه براى [شناخت] حقیقت، گمان كافى نیست.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 53:26 تا 53:30

پتھر کے بت بنا کر ان کو پوجنا، فرشتوں کو خدا کی بیٹی بتانا، سفارشوں کی بنیاد پر جنت کی امید رکھنا یہ سب غیر سنجیدہ عقیدے ہیں۔ اور غیر سنجیدہ عقیدے ہمیشہ اس ذہن میں پیدا ہوتے ہیں جو پکڑ کا خوف نہ رکھتا ہو۔ خوف لا یعنی کلام کا قاتل ہے۔ اور جو شخص بے خوف ہو اس کا دماغ لا یعنی کلام کا کارخانہ بن جائے گا۔

جو لوگ بے خوفی کی نفسیات میں مبتلا ہوں، ان سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایسے لوگ دلیل اور معقولیت پر دھیان نہیں ديتے، اس لیے وہ امر حق کو ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ ان سے مقابلہ کرنے کی ایک ہی ممکن تدبیر ہے۔ وہ یہ کہ ان سے اعراض کیا جائے۔ تاہم اللہ تعالیٰ ہر شخص کی اندرونی حالت کو جانتا ہے اور وہ اس کے مطابق ہر شخص سے معاملہ فرمائے گا۔