وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: An-Naml ۵۸:۲۷

۵۸:۲۷
وامطرنا عليهم مطرا فساء مطر المنذرين ٥٨
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًۭا ۖ فَسَآءَ مَطَرُ ٱلْمُنذَرِينَ ٥٨
وَأَمۡطَرۡنَا
عَلَيۡهِم
مَّطَرٗاۖ
فَسَآءَ
مَطَرُ
ٱلۡمُنذَرِينَ
٥٨
و بارانی [از سنگ] بر آنان باراندیم؛ و بارانِ بیم‌داده‌شدگان چه بد بود!
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 27:54 تا 27:59

قوم لوط اپنی لذتیت میں امرد پرستی (pederasty) کی حد تک پہنچ گئی تھی۔ حضرت لوط نے قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ خدا کے بندو، تم کو آنکھ دی گئی ہے کہ دیکھو اور بھلے برُے کی تمیز دی گئی ہے کہ پہچانو۔ پھر کیسے تم وہ کام کرتے ہو جو کھلی ہوئی بے حیائی کا کام ہے۔

قوم کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا۔ وہ پیغمبر کی بات کو دلیل سے رد نہیں کرسکتے تھے۔ اس ليے وہ پیغمبر کے خلاف جارحیت پر آمادہ ہوگئے۔مگر جب یہ نوبت آجائے تو پھر بلا تاخیر خدا کا فیصلہ آجاتاہے۔ چنانچہ خدا نے آتش فشانی مادہ برسا کر انھیں ہلاک کردیا۔ اس خدائی فیصلہ سے حضرت لوط کی بیوی بھی نہ بچی جو مشرکوں سے ملی ہوئی تھی۔ خدا کا معاملہ ہر شخص سے اس کے ذاتی عمل کی بنیادپر ہوتا ہے، نہ کہ رشتہ اور تعلق کی بنیاد پر۔

تاریخ کے مذکورہ واقعات پر جو شخص غور کرے گا وہ پکار اٹھے گا کہ اس خدا کا شکر ہے جس نے ہر دور میں انسان کی رہنمائی کا انتظام کیا اور پھر ان بندوں کی عقیدت سے اس کا سینہ لبریز ہوجائے گاجنھوں نے اپنی زندگی کامل طورپر خداکے حوالے کرکے خداکے منصوبۂ ہدایت کی تکمیل کی۔