وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: An-Nazi'at ۲۹:۷۹

۲۹:۷۹
واغطش ليلها واخرج ضحاها ٢٩
وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَىٰهَا ٢٩
وَأَغۡطَشَ
لَيۡلَهَا
وَأَخۡرَجَ
ضُحَىٰهَا
٢٩
و شبش را تاریک و روزش را روشن گردانید،
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

واغطش ............ ضحھا (29:79) ” اور اس کی رات ڈھانکی اور اس کا دن نکالا “۔ اس انداز تعبیر میں لفظاً اور معنی شدت اور ترنم ہے۔ اور یہ انداز تعبیر اس سورت کی شدت اور قوت کے عین مطابق ہے۔

واغطش لیلھا (29:79) ” کے معنی ہیں رات کو سیاہ اور تاریک بنادیا۔

اور اخرج ضحھا (29:79) ” کے معنی ہیں ، دن کو روشن کیا۔ تاریکی اور روشنی کے لئے یہاں قرآن نے جو الفاظ چنے ہیں وہ سیاق کلام کے لئے بہت موزوں ہیں۔ روشنی اور تاریکی کا پے درپے آنا اور جانا ، رات کی تاریکی اور چاشت کی روشنی ہر شخص کا دیکھا ہوا منظر ہے۔ ہر دل اس سے متاثر ہوتا ہے۔ انسان بعض اوقات زیادہ مانوس ہونے کی وجہ سے گردش لیل ونہار سے وہ تاثر نہیں لیتا جو قرآن یہاں بیان کرتا ہے ، لیکن قرآن مجید کا یہ کمال ہے کہ وہ انسانی احساسات کو تیز کرتا ہے اور انسان بھولے بسرے نغمے گانے لگتا ہے اور یہ سب کچھ انسان کو بالکل جدید لگتا ہے۔ گویا ہر دن ایک نیا دن طلوع ہوتا ہے۔ کل وہ شعور اور وہ تاثر نہ تھا جو آج قرآن کو پڑھ کر انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ ان حقائق کے حوالے سے قرآن انسانی احساسات کو بیدار کرتا ہے اور جوں جوں کائنات کے ان مناظر اور حقائق کے بارے میں انسانی علم وسیع ہوتا ہے ، انسان کے تاثرات ، اس کی حیرانگی اور اس کی دہشت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔