وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: An-Nur ۲۰:۲۴

۲۰:۲۴
ولولا فضل الله عليكم ورحمته وان الله رءوف رحيم ٢٠
وَلَوْلَا فَضْلُ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُۥ وَأَنَّ ٱللَّهَ رَءُوفٌۭ رَّحِيمٌۭ ٢٠
وَلَوۡلَا
فَضۡلُ
ٱللَّهِ
عَلَيۡكُمۡ
وَرَحۡمَتُهُۥ
وَأَنَّ
ٱللَّهَ
رَءُوفٞ
رَّحِيمٞ
٢٠
و اگر بخشش و رحمت الله بر شما نبود و اینکه الله دلسوز مهربان است، [قطعاً مجازات سختی در انتظارتان بود].
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

اللہ تعالیٰ دوبارہ مسلمانوں کو اپنے فضل و کرم کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

(ولولا فضل اللہ۔۔۔۔۔۔۔ رحیم) (24 : 20) ” اور اگر اللہ کا فضل اور اس کا رحم و کرم تم پر نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ شفیق و رحیم ہے تو ۔۔۔ “ تو یہ حادثہ بڑا ہی عظیم تھا اور جو غلطی تم سے ہوگئی وہ کوئی معمولی غلطی نہ تھی۔ اور اس کے اندر جو شرارت پوشیدہ تھی وہ تمہیں خوب نقصان پہنچا دیتی۔ لیکن یہ اللہ کا فضل اور اس کا رحم و کرم تھا اور اس کی مہربانی اور اس کی نگرانی تھی کہ اس نے اس امر عظیم کے برے نتائج کو کنٹرول کرلیا۔ یہ بات اللہ بار بار ذکر فرماتا ہے۔ اس واقعہ کو اللہ ذریعہ تربیت بنا رہا ہے کیونکہ اس کے اثرات مسلمانوں کی اجتماعی زندگی پر پڑ رہے تھے۔

جب یہ باور کرادیا گیا کہ یہ عظیم فتنہ قریب تھا کہ تحریک اسلامی کے اجتماعی نظام کو تہس نہس کروئے اگر اللہ کا فضل و کرم نہ ہوتا تو اب بتایا جاتا ہے کہ ذراسوچو تو سہی کہ تم تو شیطانی نقوش قدم پر چل پڑے تھے جو تمہارا جدی دشمن ہے۔ ” تمہیں شیطان کے قدموں پر نہیں چلنا چاہیے۔ آئندہ کے لیے اس قسم کی شیطانی حرکات سے بازرہو جن کے نتیجے میں پوری سوسائٹی ایسے شرکا شکار ہوجائے جس طرح جنگل میں آگ لگ جاتی ہے۔