وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Ar-Ra'd ۱۵:۱۳

۱۵:۱۳
ولله يسجد من في السماوات والارض طوعا وكرها وظلالهم بالغدو والاصال ۩ ١٥
وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ طَوْعًۭا وَكَرْهًۭا وَظِلَـٰلُهُم بِٱلْغُدُوِّ وَٱلْـَٔاصَالِ ۩ ١٥
وَلِلَّهِۤ
يَسۡجُدُۤ
مَن
فِي
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِ
طَوۡعٗا
وَكَرۡهٗا
وَظِلَٰلُهُم
بِٱلۡغُدُوِّ
وَٱلۡأٓصَالِ۩
١٥
و هر کس [و هر چه] در آسمان‌ها و زمین است ـ خواه و ناخواه ـ و [حتی] سایه‌هایشان، بامداد و شامگاه براى الله سجده [و فروتنی] مى‌كنند.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
عظمت وسطوت الہٰی ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی عظمت وسلطنت کو بیان فرما رہا ہے کہ ” ہر چیز اس کے سامنے پست ہے اور ہر ایک اس کی سرکار میں اپنی عاجزی کا اظہار کرتی ہے۔ مومن خوشی سے اور کافر بزور اس کے سامنے سجدہ میں ہے۔ ان کی پرچھائیں صبح شام اس کے سامنے جھکتی رہتی ہے “۔

«اصال» جمع ہے «اصیل» کی۔ اور آیت میں بھی اس کا بیان ہوا ہے۔ فرمان ہے آیت «اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَالشَّمَاىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ» [16-النحل:48] ‏ یعنی ” کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ تمام مخلوق اللہ کے سامنے دائیں بائیں جھک کر اللہ کو سجدہ کرتے ہیں اور اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں “۔

صفحہ نمبر4139