وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: At-Tawbah ۶۱:۹

۶۱:۹
ومنهم الذين يوذون النبي ويقولون هو اذن قل اذن خير لكم يومن بالله ويومن للمومنين ورحمة للذين امنوا منكم والذين يوذون رسول الله لهم عذاب اليم ٦١
وَمِنْهُمُ ٱلَّذِينَ يُؤْذُونَ ٱلنَّبِىَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌۭ ۚ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍۢ لَّكُمْ يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌۭ لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنكُمْ ۚ وَٱلَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ ٱللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ ٦١
وَمِنۡهُمُ
ٱلَّذِينَ
يُؤۡذُونَ
ٱلنَّبِيَّ
وَيَقُولُونَ
هُوَ
أُذُنٞۚ
قُلۡ
أُذُنُ
خَيۡرٖ
لَّكُمۡ
يُؤۡمِنُ
بِٱللَّهِ
وَيُؤۡمِنُ
لِلۡمُؤۡمِنِينَ
وَرَحۡمَةٞ
لِّلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
مِنكُمۡۚ
وَٱلَّذِينَ
يُؤۡذُونَ
رَسُولَ
ٱللَّهِ
لَهُمۡ
عَذَابٌ
أَلِيمٞ
٦١
و برخی از آنان [= منافقان] هستند که پیامبر را می‌آزارند و می‌گویند: «او زود‌باور [و سراپا گوش] است»؛ [ای پیامبر،] بگو: «او براى شما [فقط] شنوندۀ سخنِ خیر است. [وی] به الله ایمان دارد و [سخن‌] مؤمنان را باور دارد و براى كسانى از شما كه ایمان آورده‌اند رحمتى است»؛ و كسانى كه رسول الله را می‌آزارند، عذابى دردناک [در پیش‌] دارند.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
نکتہ چین منافقوں کا مقصد ٭٭

منافقوں کی ایک جماعت بڑی موذی ہے اپنے باتوں سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھ پہنچاتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ نبی تو کانوں کا بڑا ہی کچا ہے جس سے جو سنا مان لیا۔ جب ہم اس کے پاس جائیں گے اور قسمیں کھائیں گے وہ ہماری بات بھی باور کر لے گا۔

اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ بہتر کانوں والا اچھی سننے والا اور صادق و کاذب کو خوب جانتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی باتیں مانتا ہے اور با ایمان لوگوں کی سچائی بھی جانتا ہے وہ مومنوں کے لیے رحمت ہے اور بے ایمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی حجت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ستانے والوں کے لیے دکھ کی مار ہے۔

صفحہ نمبر3508