وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: At-Tur ۴۰:۵۲

۴۰:۵۲
ام تسالهم اجرا فهم من مغرم مثقلون ٤٠
أَمْ تَسْـَٔلُهُمْ أَجْرًۭا فَهُم مِّن مَّغْرَمٍۢ مُّثْقَلُونَ ٤٠
أَمۡ
تَسۡـَٔلُهُمۡ
أَجۡرٗا
فَهُم
مِّن
مَّغۡرَمٖ
مُّثۡقَلُونَ
٤٠
[ای پیامبر،] آیا پاداشی از آنان درخواست می‌کنی که [از پرداخت آن در رنجند و هزینه‌اش] برایشان [گران و] سنگین است؟
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

ام تسئلھم ........ مثقلون (25 : 04) ” کیا تم ان سے کوئی اجر مانگتے ہو کہ یہ زبردستی پڑی ہوئی چٹی کے بوجھ تلے دبے جاتے ہیں “ یعنی یہ اس مالی بوجھ کو برداشت نہیں کرسکتے جو تم ان پر ڈال رہے ہو۔ تو اگر واقعہ یہ ہے کہ نہ تو اجرت طلب ہورہی ہے اور نہ تم پر کوئی بوجھ ڈالا جارہا ہے تو پھر تمہارا رویہ کس قدر قبیح اور ذلیلانہ ہے۔ تمہیں اپنے رویہ پر سوچ کر شرمندہ ہونا چاہئے ؟

اس کے بعد دوبارہ ان کے سامنے ان کے وجود اور اس کائنات میں ان کے حالات کو پیش کیا جاتا ہے کہ یہ بندے ہیں اور ان کے کچھ حدود ہیں۔ اس کائنات میں ان پر بہت ہی امور مخفی ہیں اور کچھ تھوڑے ہی امور ایسے ہیں جن کے بارے میں وہ جانتے ہیں امور سب راز ہیں اور ان کو اس کائنات کا مالک ہی جانتا ہے۔ عالم غیب کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ یہ اس کے اندر نہیں جاسکتے کیونکہ یہ بندے ہیں۔