وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Az-Zalzalah ۳:۹۹

۳:۹۹
وقال الانسان ما لها ٣
وَقَالَ ٱلْإِنسَـٰنُ مَا لَهَا ٣
وَقَالَ
ٱلۡإِنسَٰنُ
مَا
لَهَا
٣
و انسان می‌گوید: «آن [= زمین] را چه شده است؟»
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

وقال ............ مالھا (3:99) ” اور انسان کہے گا ، یہ اس کو کیا ہورہا ہے ؟ “۔ یہ ایک ایسے شخص کا سوال ہے جو ایک اچانک ، خوفناک منظر کو دیکھ کر مبہوت رہ جاتا ہے ، جو ایسا منظر دیکھ رہا ہوتا ہے جو نادیدنی ہو ، جو ایسی صورت حالات سے دوچارہوتا ہے جس کو وہ سمجھ نہیں پارہا ہوتا ، اور ایک ایسے منظر کو دیکھ رہا ہوتا ہے ، جس پر وہ نہ خاموش ہوسکتا ہے ، اور نہ صبر کرسکتا ہے۔

مالھا (3:99) ” اسے کیا ہوگیا ہے “۔ کیا سبب ہے کہ ایک زلزلہ برپا ہے اور زمین ہے کہ مسلسل حرکت کررہی ہے اور اس کے قدم ہی نہیں جمتے اور وہ ادھر ادھر لڑھک رہا ہے اور کوشش کررہا ہے کہ جو سہارے ہاتھ میں آئے اسے لے ، لیکن اس کے ماحول میں ہر چیز حرکت کررہی ہے ، اور شدید زلزلے کی زد میں ہے۔

انسان نے اس سے قبل زلزلے اور آتش فشانی کے عمل دیکھے ہوئے تھے اور زلزلے اور آتش فشانی کے دوران خوف اور بےچینی سے وہ دوچار رہا ہے۔ اس نے ہلاکتیں اور بربادیاں دیکھی ہیں لیکن جب وہ قیامت کا زلزلہ دیکھتا ہے تو وہ سمجھ لیتا ہے کہ دنیا کے زلزلوں اور آتش فشانیوں اور اس کی موجودہ حادثے کے درمیان کوئی مماثلت نہیں ہے۔ یہ کوئی اور ہی عمل ہے ، کوئی اور ہی حادثہ ہے۔ اس حادثے کا کوئی حقیقی سبب اس کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ نہ اس کی کوئی مثال ہے۔ یہ ایک نہایت ہی ہولناک واقعہ ہے اور پہلی مرتبہ پیش آرہا ہے۔