وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان
۹:۳۴
افلم يروا الى ما بين ايديهم وما خلفهم من السماء والارض ان نشا نخسف بهم الارض او نسقط عليهم كسفا من السماء ان في ذالك لاية لكل عبد منيب ٩
أَفَلَمْ يَرَوْا۟ إِلَىٰ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ ۚ إِن نَّشَأْ نَخْسِفْ بِهِمُ ٱلْأَرْضَ أَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًۭا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةًۭ لِّكُلِّ عَبْدٍۢ مُّنِيبٍۢ ٩
أَفَلَمۡ
يَرَوۡاْ
إِلَىٰ
مَا
بَيۡنَ
أَيۡدِيهِمۡ
وَمَا
خَلۡفَهُم
مِّنَ
ٱلسَّمَآءِ
وَٱلۡأَرۡضِۚ
إِن
نَّشَأۡ
نَخۡسِفۡ
بِهِمُ
ٱلۡأَرۡضَ
أَوۡ
نُسۡقِطۡ
عَلَيۡهِمۡ
كِسَفٗا
مِّنَ
ٱلسَّمَآءِۚ
إِنَّ
فِي
ذَٰلِكَ
لَأٓيَةٗ
لِّكُلِّ
عَبۡدٖ
مُّنِيبٖ
٩
آیا [کافران] به آسمان و زمینی که پیش رو و پشت سرشان است ننگریسته‌اند؟ اگر بخواهیم، آنان را [مانند قارون] در زمین فرومی‌بریم یا [همچون قوم شعیب] پاره‌هایی از آسمان را بر سرشان می‌افکنیم. بی‌گمان، در این [هشدار،] برای هر بندۀ توبه‌کاری، نشانه‌ای [از قدرتِ الله] است.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 34:7 تا 34:9

مکہ کے لوگ رسول اور اصحابِ رسول کو حقیر سمجھتے تھے، اس ليے وہ ان کی ہر بات کا مذاق اڑاتے رہے۔ اس کی اصل وجہ آخرت کے بارے میں ان کی بے یقینی تھی۔ آخرت کی پکڑ کا اندیشہ ان کے دلوں میں نہ تھا۔ اس ليے وہ آخرت کی باتوں کے متعلق زیادہ سنجیدہ بھی نہ ہوسکے۔

اس دنیا میں سب سے بڑا عذاب یہ ہے کہ آدمی صحتِ فکر سے محروم ہوجائے۔ ایسا آدمی کسی چیز کو اس کے صحیح روپ میں نہیں دیکھ پاتا۔ کھلی ہوئی حقیقتوں سے بھی اس کو نصیحت حاصل نہیں ہوتی۔ مثلاً اوپری فضا سے مسلسل بے شمار پـتھر نہایت تیز رفتاری کے ساتھ زمین کی طرف آتے رہتے ہیں۔ اگر یہ پتھر انسانی بستیوں پر برسنے لگیں تو انسانی نسل کا خاتمہ ہوجائے۔ اسی طرح زمین کے نیچے کا زیادہ حصہ گرم پگھلا ہوا لاوا ہے۔ اگر وہ غیر محدود طورپر پھٹ پڑے تو سطح زمین کی ہر چیز جل کر ختم ہوجائے۔ مگر خدا اپنے خصوصی انتظام کے تحت ایسا ہونے نہیں دیتا۔ آسمان اور زمین میں اس قسم کی واضح نشانیاں ہیں جو انسان کے عجز کو بتا رہی ہیں۔ مگر آدمی جب صحتِ فکر سے محروم ہوجائے تو کوئی نشانی اس کو ہدایت دینے والی نہیں بنتی۔