وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Fatir ۳۳:۳۵

۳۳:۳۵
جنات عدن يدخلونها يحلون فيها من اساور من ذهب ولولوا ولباسهم فيها حرير ٣٣
جَنَّـٰتُ عَدْنٍۢ يَدْخُلُونَهَا يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٍۢ وَلُؤْلُؤًۭا ۖ وَلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِيرٌۭ ٣٣
جَنَّٰتُ
عَدۡنٖ
يَدۡخُلُونَهَا
يُحَلَّوۡنَ
فِيهَا
مِنۡ
أَسَاوِرَ
مِن
ذَهَبٖ
وَلُؤۡلُؤٗاۖ
وَلِبَاسُهُمۡ
فِيهَا
حَرِيرٞ
٣٣
[پاداششان] باغ‌های جاودان [بهشتی] است که به آن وارد می‌شوند. در آنجا به دستبند‌هایی از طلا و مروارید آراسته می‌گردند و لباسشان از حریر است.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

ذلک ھو الفضل الکبیر ۔۔۔۔۔۔ فیھا لغوب (22 – 25)

اس منظر میں نہایت ٹھوس اور مادی نعمتوں کا ذکر ہے اور ایسی نفسیاتی سہولتوں کا ذکر ہے جنہیں محسوس کیا جاتا ہے ۔ وہاں ان کی ظاہری حالت یہ ہوگی۔

یحلون فیھا ۔۔۔۔۔ فیھا حریر (35: 33) ” وہاں انہیں سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کیا جائے گا ، وہاں ان کا لباس ریشم ہوگا “۔ یہ سازو سامان مادی اور ٹھوس ہے اور نظر آنے والا ہے۔ انسان کا نفس ان چیزوں کو پسند کرتا ہے اور اس کے علاوہ اللہ کی رضا مندی ، دلی اطمینان اور امن و سکون ہوگا۔