وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Fussilat ۳۹:۴۱

۳۹:۴۱
ومن اياته انك ترى الارض خاشعة فاذا انزلنا عليها الماء اهتزت وربت ان الذي احياها لمحيي الموتى انه على كل شيء قدير ٣٩
وَمِنْ ءَايَـٰتِهِۦٓ أَنَّكَ تَرَى ٱلْأَرْضَ خَـٰشِعَةًۭ فَإِذَآ أَنزَلْنَا عَلَيْهَا ٱلْمَآءَ ٱهْتَزَّتْ وَرَبَتْ ۚ إِنَّ ٱلَّذِىٓ أَحْيَاهَا لَمُحْىِ ٱلْمَوْتَىٰٓ ۚ إِنَّهُۥ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ ٣٩
وَمِنۡ
ءَايَٰتِهِۦٓ
أَنَّكَ
تَرَى
ٱلۡأَرۡضَ
خَٰشِعَةٗ
فَإِذَآ
أَنزَلۡنَا
عَلَيۡهَا
ٱلۡمَآءَ
ٱهۡتَزَّتۡ
وَرَبَتۡۚ
إِنَّ
ٱلَّذِيٓ
أَحۡيَاهَا
لَمُحۡيِ
ٱلۡمَوۡتَىٰٓۚ
إِنَّهُۥ
عَلَىٰ
كُلِّ
شَيۡءٖ
قَدِيرٌ
٣٩
از جمله نشانه‌هاى [قدرت] الهى این است كه زمین خشک و فرسوده را مى‌بینى که چون باران بر آن فرومی‌ریزیم، به جنبش درمی‌آید [و گیاه می‌رویاند] و [گیاهانش] رشد می‌كند؛ آن [پروردگار توانمندی] كه زمین را زنده مى‌كند، مردگان را نیز زنده خواهد كرد. به راستی كه او تعالی بر هر كارى تواناست.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 41:37 تا 41:39
مخلوق کو نہیں خالق کو سجدہ کرو ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو اپنی عظیم الشان قدرت اور بے مثال طاقت دکھاتا ہے کہ وہ جو کرنا چاہے کر ڈالتا ہے سورج چاند دن رات اس کی قدرت کاملہ کے نشانات ہیں۔ رات کو اس کے اندھیروں سمیت دن کو اس کے اجالوں سمیت اس نے بنایا ہے۔ کیسے یکے بعد دیگرے آتے جاتے ہیں؟ سورج کو روشنی اور چمکتے چاند کو اور اس کی نورانیت کو دیکھ لو ان کی بھی منزلیں اور آسمان مقرر ہیں۔ ان کے طلوع و غروب سے دن رات کا فرق ہو جاتا ہے۔ مہینے اور برسوں کی گنتی معلوم ہو جاتی ہے جس سے عبادات معاملات اور حقوق کی باقادہ ادائیگی ہوتی ہے۔ چونکہ آسمان و زمین میں زیادہ خوبصورت اور منور سورج اور چاند تھا اس لیے انہیں خصوصیت سے اپنا مخلوق ہونا بتایا اور فرمایا کہ «لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ» [41-فصلت:37] ‏ ” اگر اللہ کے بندے ہو تو سورج چاند کے سامنے ماتھا نہ ٹیکنا اس لیے کہ وہ مخلوق ہیں اور مخلوق سجدہ کرنے کے قابل نہیں ہوتی سجدہ کئے جانے کے لائق وہ ہے جو سب کا خالق ہے “۔

پس تم اللہ کی عبادت کئے چلے جاؤ۔ لیکن اگر تم نے اللہ کے سوا اس کی کسی مخلوق کی بھی عبادت کر لی تو تم اس کی نظروں سے گر جاؤ گے اور پھر تو وہ تمہیں کبھی نہ بخشے گا، جو لوگ صرف اس کی عبادت نہیں کرتے بلکہ کسی اور کی بھی عبادت کر لیتے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ اللہ کے عابد وہی ہیں۔ وہ اگر اس کی عبادت چھوڑ دیں گے تو اور کوئی اس کا عابد نہیں رہے گا۔ نہیں نہیں اللہ ان کی عبادتوں سے محض بےپرواہ ہے اس کے فرشتے دن رات اس کی پاکیزگی کے بیان اور اس کی خالص عبادتوں میں بے تھکے اور بن اکتائے ہر وقت مغشول ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَإِن يَكْفُرْ بِهَا هَـٰؤُلَاءِ فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّيْسُوا بِهَا بِكَافِرِينَ» [6-الأنعام:89] ‏ ” اگر یہ کفر کریں تو ہم نے ایک قوم ایسی بھی مقرر کر رکھی ہے جو کفر نہ کرے گی “۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں رات دن کو سورج چاند کو اور ہوا کو برا نہ کہو یہ چیزیں بعض لوگوں کے لیے رحمت ہیں اور بعض کے لیے زحمت ۔ [مسند ابویعلیٰ:2194:ضعیف] ‏

اس کی اس قدرت کی نشانی کہ وہ مردوں کو زندہ کر سکتا ہے اگر دیکھنا چاہتے ہو تو مردہ زمین کا بارش سے جی اٹھنا دیکھ لو کہ وہ خشک چٹیل اور بےگھاس پتوں کے بغیر ہوتی ہے۔ مینہ برستے ہی کھیتیاں پھل سبزہ گھاس اور پھول وغیرہ اگ آتے ہیں اور وہ ایک عجیب انداز سے اپنے سبزے کے ساتھ لہلہانے لگتی ہے، اسے زندہ کرنے والا ہی تمہیں بھی زندہ کرے گا۔ یقین مانو کہ وہ جو چاہے اس کی قدرت میں ہے۔

صفحہ نمبر8088