وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Ghafir ۵۳:۴۰

۵۳:۴۰
ولقد اتينا موسى الهدى واورثنا بني اسراييل الكتاب ٥٣
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْهُدَىٰ وَأَوْرَثْنَا بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱلْكِتَـٰبَ ٥٣
وَلَقَدۡ
ءَاتَيۡنَا
مُوسَى
ٱلۡهُدَىٰ
وَأَوۡرَثۡنَا
بَنِيٓ
إِسۡرَٰٓءِيلَ
ٱلۡكِتَٰبَ
٥٣
ما [مقام] هدایت به موسی بخشیدیم و بنی‌اسرائیل را وارثان تورات قرار دادیم؛
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 40:51 تا 40:55

پیغمبر اور پیغمبر کے پیروؤں کےلیے خدا کی مددکا یقینی وعدہ ہے۔ مگر اس مدد کا استحقاق ہمیشہ صبر کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ صبر کی یہ اہمیت اس ليے ہے تاکہ اہل حق مکمل طورپر اہل حق ٹھہریں اور ظالم مکمل طورپر ظالم ثابت ہوجائیں۔ اس تفریقی مرحلہ کو لانے کےلیے اہلِ حق کو یک طرفہ طورپر صبر کرنا پڑتاہے۔

اہل حق کا یہ صبر انھیں دنیا میں خدا کی مدد کا مستحق بناتا ہے۔ اور اسی صبر کے ذریعہ وہ اس قابل ثابت ہوتے ہیں کہ وہ قیامت کے دن ظالموں کے مقابلہ میں خدا کے گواہ بن کر کھڑے ہوں۔

خدا کی طرف سے کتاب آتی ہے وہ انسانوں کی ہدایت اور نصیحت ہی کےلیے آتی ہے۔ مگر یہ نصیحت صرف ان لوگوں کو فائدہ دیتی ہے جو عقل والے ہوں۔ یعنی وہ لوگ جو مصلحتوں میں بندھے ہوئے نہ ہوں۔ جو نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہو کر اس پر غور كر سكيں، جو باتوں کو دلیل کے اعتبار سے جانچتے ہوں، نہ کہ کسی اور اعتبار سے۔ یہی خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کرنا ہے۔ جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ بے عقلی کا معاملہ کریں وہ ظالم ہیں اور جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کریں وہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہوئے۔