وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Ghafir ۵۸:۴۰

۵۸:۴۰
وما يستوي الاعمى والبصير والذين امنوا وعملوا الصالحات ولا المسيء قليلا ما تتذكرون ٥٨
وَمَا يَسْتَوِى ٱلْأَعْمَىٰ وَٱلْبَصِيرُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ وَلَا ٱلْمُسِىٓءُ ۚ قَلِيلًۭا مَّا تَتَذَكَّرُونَ ٥٨
وَمَا
يَسۡتَوِي
ٱلۡأَعۡمَىٰ
وَٱلۡبَصِيرُ
وَٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
وَعَمِلُواْ
ٱلصَّٰلِحَٰتِ
وَلَا
ٱلۡمُسِيٓءُۚ
قَلِيلٗا
مَّا
تَتَذَكَّرُونَ
٥٨
نابینا و بینا هرگز برابر نیستند، و مؤمنان نیكوكار با بدكاران یكسان نخواهند بود؛ [ولى] عدۀ كمى از شما پند مى‌پذیرید.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 40:57 تا 40:59

کائنات کی عظمت اپنے خالق کی عظمت کا تعارف ہے۔ یہ عظمت اتنی بے پناہ ہے کہ اس کے مقابلہ میں انسان کو دوبارہ پیدا کرنا نسبتاً ایک بہت زیادہ آسان کام ہے۔ اس طرح کائنات کی موجودہ تخلیق انسان کے تخلیقِ ثانی کے امکان کو ثابت کررہی ہے۔

اس کے بعد انسانی سماج کو دیکھا جائے تو آخرت کی دنیا کا آنا ایک اخلاقی ضرورت معلوم ہونے لگتا ہے۔ سماج میں ایسے لوگ بھی ہیں جو حقیقت کو دیکھنے والی بصیرت کا ثبوت دیتے ہیں اور ایسے لوگ بھی ہیں جو حقیقت کے مقابلہ میں بالکل اندھے بنے ہوں۔ اسی طرح سماج میںایسے لوگ بھی ہیںجو ہر حال میںانصاف پر قائم رہتے ہیں۔ اور ایسے لوگ بھی جو انصاف سے ہٹ جاتے ہیں اور معاملات میں ظالمانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔ انسان کا اخلاقی احساس کہتا ہے کہ ان دونوں قسم کے انسانوں کا انجام یکساں نهيں ہونا چاہيے۔

ان باتوں پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگاکہ آخرت کا ظہور عقلی طور پر ممکن بھی ہے اور اخلاقی طورپر ضروری بھی۔