وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Hud ۲۴:۱۱

۲۴:۱۱
۞ مثل الفريقين كالاعمى والاصم والبصير والسميع هل يستويان مثلا افلا تذكرون ٢٤
۞ مَثَلُ ٱلْفَرِيقَيْنِ كَٱلْأَعْمَىٰ وَٱلْأَصَمِّ وَٱلْبَصِيرِ وَٱلسَّمِيعِ ۚ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلًا ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ٢٤
۞ مَثَلُ
ٱلۡفَرِيقَيۡنِ
كَٱلۡأَعۡمَىٰ
وَٱلۡأَصَمِّ
وَٱلۡبَصِيرِ
وَٱلسَّمِيعِۚ
هَلۡ
يَسۡتَوِيَانِ
مَثَلًاۚ
أَفَلَا
تَذَكَّرُونَ
٢٤
مَثَل این دو گروه [کافر و مؤمن]، همانند نابینا و ناشنوا [از یک سو] و بینا و شنوا [از سوی دیگر] است. آیا با یکدیگر برابرند؟ آیا پند نمی‌گیرید؟
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

یہ ایک حسی تصویر کشی ہے جس کے اندر دونوں فریقوں کو مجسم طور پر پیش کردیا گیا ہے۔ پہلا فریق ایک نابینا کی طرح جو کچھ دیکھ ہی نہیں سکتا ، بہرے کی طرح ہے جو کچھ سن نہیں سکتا۔ جس کے قوائے مدرکہ معطل ہیں اور وہ علی امفاہیم کے ادراک سے عاجز ہے۔ چونکہ اس کے اعضائے مدرکہ کام نہیں کرتے اس لیے وہ گویا ان اعضا ہی سے محروم ہے جبکہ دوسرا فریق ان سے کام لیتا ہے اور سمیع وبصیر ہے اور ان قوتوں سے اس کی عقل استفادہ کرتی ہے۔

اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ ۔ آخری میں سوال کیا جاتا ہے کہ کیا یہ دونوں قسم کے لوگ برابر ہوسکتے ہیں ؟ اور اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا جاتا کیونکہ جواب کی ضرورت ہی کیا ہے ؟

بلکہ دوسرا سوال کردیا جاتا ہے کہ کیا تم لوگ اس مثال سے سبق نہیں لیتے اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ ۔ اس لیے کہ بات اس قدر واضح ہے کہ اس پر کسی گہرے غور و فکر کی تو ضرورت ہی نہیں ہے۔