وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Hud ۷۶:۱۱

۷۶:۱۱
يا ابراهيم اعرض عن هاذا انه قد جاء امر ربك وانهم اتيهم عذاب غير مردود ٧٦
يَـٰٓإِبْرَٰهِيمُ أَعْرِضْ عَنْ هَـٰذَآ ۖ إِنَّهُۥ قَدْ جَآءَ أَمْرُ رَبِّكَ ۖ وَإِنَّهُمْ ءَاتِيهِمْ عَذَابٌ غَيْرُ مَرْدُودٍۢ ٧٦
يَٰٓإِبۡرَٰهِيمُ
أَعۡرِضۡ
عَنۡ
هَٰذَآۖ
إِنَّهُۥ
قَدۡ
جَآءَ
أَمۡرُ
رَبِّكَۖ
وَإِنَّهُمۡ
ءَاتِيهِمۡ
عَذَابٌ
غَيۡرُ
مَرۡدُودٖ
٧٦
[فرشتگان گفتند:] «ای ابراهیم، از این [سخن] بگذر؛ [چرا که] به راستی فرمان [عذاب] پروردگارت فرارسیده است و مسلماً عذابی بازگشت‌ناپذیر برایشان خواهد آمد».
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

پردہ گرتا ہے اور یہ خوش کن اور دلربا منظر آنکھوں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ سیاق کلام پر خاموشی طاری ہوجاتی ہے۔ لازمی ہے کہ حکم باری کے سامنے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی خاموش ہوگئے ہوں گے۔ لیکن اچانک آنکھوں کے سامنے ایک دوسرا منظر آجاتا ہے جو ہاو و ہو سے پر ہے۔ اردن کے ایک شہر میں قوم لوط (علیہ السلام) سامنے آتی ہے۔ یہ شہر عموریہ اور صدوم ہیں :