وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Muhammad ۲۲:۴۷

۲۲:۴۷
فهل عسيتم ان توليتم ان تفسدوا في الارض وتقطعوا ارحامكم ٢٢
فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوٓا۟ أَرْحَامَكُمْ ٢٢
فَهَلۡ
عَسَيۡتُمۡ
إِن
تَوَلَّيۡتُمۡ
أَن
تُفۡسِدُواْ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
وَتُقَطِّعُوٓاْ
أَرۡحَامَكُمۡ
٢٢
پس [اى منافقان،‌] آیا [جز این‌] انتظار ‌دارید كه اگر [از قرآن و سنت پیامبرش] روی بگردانید، در زمین تباهى كنید و از خویشاوندانتان ببُرید؟ [چنان‌که در جاهلیت این حالت را داشتید.]
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

فھل عسیتم ۔۔۔۔۔ ارحامکم (47 : 22) “ اب کیا تم لوگوں سے اس کے سوا اور کیا توقع کی جاسکتی ہے کہ تم الٹے منہ پھرو گے تو زمین میں پھر فساد برپا کرو گے اور آپس میں ایک دوسرے کے گلے کاٹو گے ”۔ یعنی تم سے تو یہی توقع ہے۔ ذرا سابقہ حالات کی روشنی میں دیکھو کہ اگر اسلام سے منہ موڑو گے تو سابقہ حالت کی طرف لوٹ کر ایک دوسرے کے اور اپنے ہی بھائیوں کے گلے کاٹو گے جس طرح اسلام سے قبل تھے۔ اسلام سے روگردانی سے ڈرانے کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی حقیقی صورت حال کیا ہے ، اگر یہ اپنی موجودہ پوزیشن پر ہی ڈٹے رہے جس طرح کہ نظر آتا ہے۔