وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Saba ۲۵:۳۴

۲۵:۳۴
قل لا تسالون عما اجرمنا ولا نسال عما تعملون ٢٥
قُل لَّا تُسْـَٔلُونَ عَمَّآ أَجْرَمْنَا وَلَا نُسْـَٔلُ عَمَّا تَعْمَلُونَ ٢٥
قُل
لَّا
تُسۡـَٔلُونَ
عَمَّآ
أَجۡرَمۡنَا
وَلَا
نُسۡـَٔلُ
عَمَّا
تَعۡمَلُونَ
٢٥
بگو: «[روز قیامت] شما از گناهی که ما مرتکب شده‌ایم بازخواست نمی‌شوید و ما را [نیز] به خاطر آنچه شما انجام می‌دهید بازخواست نمی‌کنند».
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

قل لا تسئلون ۔۔۔۔۔ تعملون (25)

مشرکین رسول اللہ ؐ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں پر یہ الزام لگاتے تھے کہ یہ لوگ غلط کار ، صابی اور مجرم ہیں اور انہوں نے اپنا حقیقی دین چھوڑ دیا ہے جو ان کے آباء و اجداد کا دین تھا۔ اہل باطل اہل حق کو ہمیشہ گمراہ کہتے چلے آئے ہیں۔ یہ ان کی طوطا چشمی اور غرور ہوتا ہے اور اس کا جواب یہی ہے۔

قل لا تسئلون ۔۔۔۔ عما تعملون (34: 25) ” کہہ دو ، جو قصور ہم نے کیا ہو اس کی کوئی باز پرس تم سے نہ ہوگی اور جو کچھ تم کر رہے ہو۔ اس کی کوئی جواب طلبی ہم سے نہ ہوگی “۔ ہر شخص اپنے عمل کا ذمہ دار ہوگا۔ اور ہر شخص کو اپنے اعمال ہی کی جزاء ملے گی۔ لہٰذا یہ ہر شخص کا اپنا کام ہے کہ وہ خوب سوچ سمجھ کر کوئی قدم اٹھائے۔ فلاح کی طرف یا ہلاکت کی طرف۔

یوں قرآن ان کو جھنجھوڑتا ہے کہ وہ غوروفکر کریں۔ سچائی کی طرف چلنے کے لیے یہ پہلا مرحلہ ہے کہ انسان راہ حق پر غور کرے۔ اب چوتھی ضرب :