وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Saba ۵۰:۳۴

۵۰:۳۴
قل ان ضللت فانما اضل على نفسي وان اهتديت فبما يوحي الي ربي انه سميع قريب ٥٠
قُلْ إِن ضَلَلْتُ فَإِنَّمَآ أَضِلُّ عَلَىٰ نَفْسِى ۖ وَإِنِ ٱهْتَدَيْتُ فَبِمَا يُوحِىٓ إِلَىَّ رَبِّىٓ ۚ إِنَّهُۥ سَمِيعٌۭ قَرِيبٌۭ ٥٠
قُلۡ
إِن
ضَلَلۡتُ
فَإِنَّمَآ
أَضِلُّ
عَلَىٰ
نَفۡسِيۖ
وَإِنِ
ٱهۡتَدَيۡتُ
فَبِمَا
يُوحِيٓ
إِلَيَّ
رَبِّيٓۚ
إِنَّهُۥ
سَمِيعٞ
قَرِيبٞ
٥٠
بگو: «اگر [من با رساندن این پیام] گمراه شده باشم، جز این نیست که به زیان خویش گمراه ‌شده‌ام و اگر هدایت یافته باشم، به سببِ آن [سخنی] است که پروردگارم بر من وحی می‌کند. بی‌تردید، او شنوا [و] نزدیک است».
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

قل ان ضللت۔۔۔۔ سمیع قریب (50)

اگر میں گمراہ ہوگیا ہوں تو اس کا وہال تم پر نہ ہوگا ۔ میں خود ذمہ دار ہوں گا اور اگر میں ہدایت ہر ہوں تو اللہ نے بذریعہ وحی مجھے یہ ہدایات دی ہیں ۔ میں خود از خود کوئی کام کرنے کا مجاز نہیں ہوں ۔ میں تو خود بھی اسیراشارہ ابرر دہوں ۔

انہ سمیع قریب (34: 50) ” وہ سب کچھ سنتا ہے اور قریب ہی ہے “۔ یہ لوگ اللہ کو قریب پاتے تھے ۔ ان کے تصور میں اللہ کی یہ صفات بیٹھی ہوئی تھیں اور ان کی حقیقی زندگی میں یہ صفات موثر تھیں ۔ ان کو یقین تھا کہ اللہ سمیع ہے اور قریب ہے ۔ اور وہ ان کے امور کو براہ راست دیکھ رہا ہے ۔ ان کی شکایت اور ان کے مشورے سب اللہ کے سامنے ہیں ۔ اللہ نے اپنے بندوں کو چھوڑ نہیں رکھا اور نہ کسی کے حوالے کررکھا ہے ۔ چناچہ ان کی زندگی اللہ کی انس و محبت میں گزرتی تھی ۔ اللہ کے زیر سایہ تھی ۔ اس کے پڑوس میں تھی ۔ اس کی مہربانیوں میں تھی ۔ اس کی نگرانی میں تھی اور یہ عقیدہ وہ اپنے قصوس کے اندر زندہ پاتے تھے ، زندہ اور سادہ شکل میں۔ یہ صفات محض تصور ہی نہ تھیں بلکہ زندہ اور عملی تھیں انہ سمیع قریب (34: 50)