وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان
۲۴:۳۴
۞ قل من يرزقكم من السماوات والارض قل الله وانا او اياكم لعلى هدى او في ضلال مبين ٢٤
۞ قُلْ مَن يَرْزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ قُلِ ٱللَّهُ ۖ وَإِنَّآ أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَىٰ هُدًى أَوْ فِى ضَلَـٰلٍۢ مُّبِينٍۢ ٢٤
۞ قُلۡ
مَن
يَرۡزُقُكُم
مِّنَ
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِۖ
قُلِ
ٱللَّهُۖ
وَإِنَّآ
أَوۡ
إِيَّاكُمۡ
لَعَلَىٰ
هُدًى
أَوۡ
فِي
ضَلَٰلٖ
مُّبِينٖ
٢٤
[ای پیامبر، به مشرکان] بگو: «چه کسی از آسمان‌ها و زمین به شما روزی می‌دهد؟» [در پاسخ] بگو: «الله؛ و یقیناً [یک گروه از بین] ما و شما یا بر [راهِ] هدایت است یا در گمراهى آشكار».
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

آیت 24 { قُلْ مَنْ یَّرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ”آپ ﷺ ان سے پوچھئے کہ کون ہے جو تمہیں رزق بہم پہنچاتا ہے آسمانوں اور زمین سے ؟“ { قُلِ اللّٰہُ وَاِنَّآ اَوْ اِیَّاکُمْ لَعَلٰی ہُدًی اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ } ”آپ ﷺ کہیے کہ اللہ ! اور یقینا ہم یا تم لوگ یا تو ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میں !“ یعنی ہمارے اور تمہارے عقائد و نظریات میں بعد المشرقین ہے۔ ان متضاد عقائد میں سے صرف ایک عقیدہ ہی درست ہوسکتا ہے۔ چناچہ منطق اور عقل کا فیصلہ یہی ہے کہ ہم دونوں میں سے ایک گروہ ہدایت پر ہے اور دوسرا کھلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے۔