وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Taha ۱۳۱:۲۰

۱۳۱:۲۰
ولا تمدن عينيك الى ما متعنا به ازواجا منهم زهرة الحياة الدنيا لنفتنهم فيه ورزق ربك خير وابقى ١٣١
وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِۦٓ أَزْوَٰجًۭا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ ۚ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌۭ وَأَبْقَىٰ ١٣١
وَلَا
تَمُدَّنَّ
عَيۡنَيۡكَ
إِلَىٰ
مَا
مَتَّعۡنَا
بِهِۦٓ
أَزۡوَٰجٗا
مِّنۡهُمۡ
زَهۡرَةَ
ٱلۡحَيَوٰةِ
ٱلدُّنۡيَا
لِنَفۡتِنَهُمۡ
فِيهِۚ
وَرِزۡقُ
رَبِّكَ
خَيۡرٞ
وَأَبۡقَىٰ
١٣١
و هرگز به [نعمت‌های دنیوی و] آنچه که گروه‌هایی از آنان [= مشرکان] را از آنها بهره‌مند ساخته‌ایم چشم ندوز. اینها [فقط] زینتِ زندگی دنیاست تا آنان را به آن بیازماییم؛ و روزیِ پروردگارت بهتر و پایدارتر است.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

ورزق ربک خیر و ابقی (02 : 131) ” اور تیرے رب کا دیا ہوا رزق ہی اچھا اور پائندہ ہے۔ “ اللہ کا دیا ہوا رزق ایک نعمت ہوتی ہے ، آزمائش نہیں۔ رزق حلال اچھا ہوتا ہے اور باقی رہتا ہے وہ دھوکہ بھی نہیں دیتا اور فتنہ بھی پیدا نہیں کرتا۔

یہ حیات دنیا کو چھوڑ دینے کی دعوت نہیں ہے لیکن اس میں یہ پیغام ضرور ہے کہ حقیقی اور پائیدار اقدار کو اہمیت دو ، اور یہ پائیدار اقدار تعلق باللہ اور اللہ کی رضامندی میں ہیں۔ لوگوں کو دنیا کے ساز و سامان کے آگے گر نہیں جانا چاہئے۔ ہم کہیں اعلیٰ اقدار پر فخر کرنے کی صفت کو گم ہی نہ کردیں۔ دنیا کا وہ ساز و سامان جو نظروں کو چکا چوند کردیتا ہے۔ یہ کہیں تمہاری نظر بلند کو پست نہ کر دے۔ اس کے مقابلے میں سربلند رہنا۔