وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Ya-Sin ۵۰:۳۶

۵۰:۳۶
فلا يستطيعون توصية ولا الى اهلهم يرجعون ٥٠
فَلَا يَسْتَطِيعُونَ تَوْصِيَةًۭ وَلَآ إِلَىٰٓ أَهْلِهِمْ يَرْجِعُونَ ٥٠
فَلَا
يَسۡتَطِيعُونَ
تَوۡصِيَةٗ
وَلَآ
إِلَىٰٓ
أَهۡلِهِمۡ
يَرۡجِعُونَ
٥٠
[در آن هنگام] نه می‌توانند [به کسی] وصیت کنند و نه به سوی خانوادۀ خود بازگردند.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 36:48 تا 36:53

جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے وہ آخرت کی طرف سے اس طرح بے فکررہتے ہیں گویا کہ آخرت کوئی بہت دور کی چیز ہے۔ ان میں سے جو لوگ زیادہ غیر سنجیدہ ہیں و ہ بعض اوقات آخرت کا مذاق بھی اڑانے لگتے ہیں۔ اس طرح کے لوگ اپنی اسی غفلت میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ قیامت انھیں اس طرح دفعۃً پکڑ لے گی کہ وہ اس کے خلاف کچھ بھی نہ کرسکیں گے۔

حدیث میں ہے کہ اسرافیل صور اپنے منھ میں ليے ہوئے عرش کی طرف دیکھ رہے ہیں اور اس بات کے منتظر ہیں کہ کب حکم ہو اور وہ ا س میں پھونک مار دیں۔ صور کا پھونکا جانا ایسا ہی ہے جیسے امتحان کا وقت ختم ہوجانے کا گھنٹہ بجنا۔ اس کے فوراً بعد دنیا کا نظام بدل جائے گا۔ اس کے بعد انجام کا مرحلہ شروع ہوگا، جب کہ آج ہم عمل کے مرحلہ سے گزر رہے ہیں۔