وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Yunus ۱۰۷:۱۰

۱۰۷:۱۰
وان يمسسك الله بضر فلا كاشف له الا هو وان يردك بخير فلا راد لفضله يصيب به من يشاء من عباده وهو الغفور الرحيم ١٠٧
وَإِن يَمْسَسْكَ ٱللَّهُ بِضُرٍّۢ فَلَا كَاشِفَ لَهُۥٓ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِن يُرِدْكَ بِخَيْرٍۢ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهِۦ ۚ يُصِيبُ بِهِۦ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ ۚ وَهُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ ١٠٧
وَإِن
يَمۡسَسۡكَ
ٱللَّهُ
بِضُرّٖ
فَلَا
كَاشِفَ
لَهُۥٓ
إِلَّا
هُوَۖ
وَإِن
يُرِدۡكَ
بِخَيۡرٖ
فَلَا
رَآدَّ
لِفَضۡلِهِۦۚ
يُصِيبُ
بِهِۦ
مَن
يَشَآءُ
مِنۡ
عِبَادِهِۦۚ
وَهُوَ
ٱلۡغَفُورُ
ٱلرَّحِيمُ
١٠٧
و اگر الله زیانی به تو برساند، هیچ بازدارنده‌ای جز او تعالی برایش نیست؛ و اگر برایت ارادۀ خیری نماید، برای فضل [و بخششِ] او هیچ مانعی نیست. [او بخشش خویش را] به هر یک از بندگانش که بخواهد، می‌رساند و او آمرزندۀ مهربان است».
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 10:104 تا 10:107
دین حنیف کی وضاحت ٭٭

یکسوئی والا سچا دین جو میں اپنے اللہ کی طرف سے لے کر آیا ہوں اس میں اے لوگوں اگر تمہیں کوئی شک شبہ ہے تو ہو، یہ تو ناممکن ہے کہ تمہاری طرح میں بھی مشرک ہو جاؤں اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرنے لگوں۔ میں تو صرف اسی اللہ کا بندہ ہوں اور اسی کی بندگی میں لگا رہوں گا جو تمہاری موت پر بھی ویسا ہی قادر ہے جیسا تمہاری پیدائش پر قادر ہے تم سب اسی کی طرف لوٹنے والے اور اسی کے سامنے جمع ہونے والے ہو۔

اچھا اگر تمہارے یہ معبود کچھ طاقت و قدرت رکھتے ہیں تو ان سے کہو کہ جو ان کے بس میں ہو مجھے سزا دیں۔ حق تو یہ ہے کہ نہ کوئی سزا ان کے قبضے میں نہ جزا۔ یہ محض بے بس ہیں، بے نفع و نقصان ہیں، بھلائی برائی سب میرے اللہ کے قبضے میں ہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے، مجھے اس کا حکم ہے کہ میں مومن رہوں۔ یہ بھی مجھے حکم مل چکا ہے کہ میں صرف اسی کی عبادت کرو۔ شرک سے یکسو اور بالکل علیحدہ رہوں اور مشرکوں میں ہرگز شمولیت نہ کروں۔ خیر و شر نفع ضرر، اللہ ہی کے ہاتھ میں۔ کسی اور کو کسی امر میں کچھ بھی اختیار نہیں۔ پس کسی اور کی کسی طرح کی عبادت بھی لائق نہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ اپنی پوری عمر اللہ تعالیٰ سے بھلائی طلب کرتے رہو۔ رب کی رحمتوں کے موقع کی تلاش میں رہو۔ ان کے موقعوں پر اللہ پاک جسے چاہے اپنی بھرپور رحمتیں عطا فرما دیتا ہے۔ اس سے پہلے عیبوں کی پردہ پوشی اپنے خوف ڈر کا امن طلب کیا کرو ۔ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:328/8:ضعیف و منقطع] ‏

پھر فرماتا ہے کہ ” جس گناہ سے جو شخص جب بھی توبہ کرے، اللہ اسے بخشنے والا اور اس پر مہربانی کرنے والا ہے “۔

صفحہ نمبر3783