وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Yunus ۵۱:۱۰

۵۱:۱۰
اثم اذا ما وقع امنتم به الان وقد كنتم به تستعجلون ٥١
أَثُمَّ إِذَا مَا وَقَعَ ءَامَنتُم بِهِۦٓ ۚ ءَآلْـَٔـٰنَ وَقَدْ كُنتُم بِهِۦ تَسْتَعْجِلُونَ ٥١
أَثُمَّ
إِذَا
مَا
وَقَعَ
ءَامَنتُم
بِهِۦٓۚ
ءَآلۡـَٰٔنَ
وَقَدۡ
كُنتُم
بِهِۦ
تَسۡتَعۡجِلُونَ
٥١
آیا پس از آنکه [عذاب] واقع شد آن را باور می‌کنید؟ آیا اکنون [ايمان می‌آورید]؟ و حال آنکه [پیشتر] آن [= عذاب] را به شتاب می‌خواستید.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

اثم اذا ما وقع امنتم بہ کیا پھر جب وہ مطلوبہ عذاب آجائے گا تو (پشیمان ہو گے اور) عذاب پر یا عذاب کی خبردینے والے پر ایمان لاؤ گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ جب تم پر عذاب آجائے گا تو کیا اس وقت بھی عذاب کی جلدی مچاؤ گے ‘ پھر اس وقت عذاب کو یا عذاب کی خبر دینے والے کو مانو گے جبکہ ایمان سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔

آلن (آخرت کا عذاب دینے کے بعد یا موت کے گھنگھرو بولنے کے وقت جب تم ایمان لاؤ گے تو اس وقت تم سے کہا جائے گا) کیا اب (تم ایمان لائے ‘ ایسے وقت میں تو ایمان بےسود ہے) ۔

وقد کنتم بہ تستعجلون۔ حالانکہ (تکذیب و استہزاء کے طور پر) تم عذاب کے جلد آجانے کے خواستگار تھے۔