وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Yunus ۸۵:۱۰

۸۵:۱۰
فقالوا على الله توكلنا ربنا لا تجعلنا فتنة للقوم الظالمين ٨٥
فَقَالُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةًۭ لِّلْقَوْمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ ٨٥
فَقَالُواْ
عَلَى
ٱللَّهِ
تَوَكَّلۡنَا
رَبَّنَا
لَا
تَجۡعَلۡنَا
فِتۡنَةٗ
لِّلۡقَوۡمِ
ٱلظَّٰلِمِينَ
٨٥
آنان گفتند: «بر الله توکل کرده‌ایم. پروردگارا، ما را دستخوشِ فتنه [و شکنجه و آزارِ] گروه ستمکاران قرار نده؛
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

فقالوا علی اللہ توکلنا (چونکہ وہ لوگ مخلص تھے اور اللہ کے پیغمبر کے سچے صحابی تھے ‘ اسلئے) انہوں نے کہا : ہمارا بھروسہ اللہ ہی پر ہے۔ اس کے بعد انہوں نے دعا کی اور بولے۔

ربنا لا تجعلنا فتنۃ للقوم الظلمین۔ اے ہمارے رب ! ہم کو ان ظالم لوگوں کا تختۂ مشق نہ بنا۔ فتنہ سے مراد ہے نشانۂ عذاب ‘ نزول عذاب کا مقام۔ یعنی اے ہمارے رب ! ان ظالموں کو ہم پر قابو نہ دینا کہ ہم کو یہ اپنے عذاب کا نشانہ بنا سکیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ ان کافروں کے کفر اور سرکشی میں اضافہ کا سبب ہم کو نہ بنانا کہ براہ راست تیرے امتحان میں ہم مبتلا ہوجائیں یا فرعون کے ہاتھوں ہم پر عذاب نازل ہوجائے اور پھر فرعون والے کہیں کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو عذاب میں مبتلا نہ ہوتے اور اس کہنے سے ان کا کفر اور ترقی پر ہوجائے۔