وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان
۷:۵۹
ما افاء الله على رسوله من اهل القرى فلله وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل كي لا يكون دولة بين الاغنياء منكم وما اتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا واتقوا الله ان الله شديد العقاب ٧
مَّآ أَفَآءَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ مِنْ أَهْلِ ٱلْقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَـٰمَىٰ وَٱلْمَسَـٰكِينِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ كَىْ لَا يَكُونَ دُولَةًۢ بَيْنَ ٱلْأَغْنِيَآءِ مِنكُمْ ۚ وَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمْ عَنْهُ فَٱنتَهُوا۟ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ ٧
مَّآ
أَفَآءَ
ٱللَّهُ
عَلَىٰ
رَسُولِهِۦ
مِنۡ
أَهۡلِ
ٱلۡقُرَىٰ
فَلِلَّهِ
وَلِلرَّسُولِ
وَلِذِي
ٱلۡقُرۡبَىٰ
وَٱلۡيَتَٰمَىٰ
وَٱلۡمَسَٰكِينِ
وَٱبۡنِ
ٱلسَّبِيلِ
كَيۡ
لَا
يَكُونَ
دُولَةَۢ
بَيۡنَ
ٱلۡأَغۡنِيَآءِ
مِنكُمۡۚ
وَمَآ
ءَاتَىٰكُمُ
ٱلرَّسُولُ
فَخُذُوهُ
وَمَا
نَهَىٰكُمۡ
عَنۡهُ
فَٱنتَهُواْۚ
وَٱتَّقُواْ
ٱللَّهَۖ
إِنَّ
ٱللَّهَ
شَدِيدُ
ٱلۡعِقَابِ
٧
و آنچه الله از [اموالِ] اهل آبادی‌ها [بدون پیکار] به پیامبرش بازگردانده [و بخشیده] است، از آنِ الله و رسول و خویشاوندان [او] و یتیمان و بینوایان و در راه‌ماندگان است. تا [این اموال،] در میان ثروتمندانِ شما دست به دست نشود؛ و آنچه رسول [الله] به شما داد، بگیرید و از آنچه که شما را از آن نهی کرد دست بردارید؛ و از الله پروا کنید که الله سخت‌کیفر است.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 59:6 تا 59:8

دشمن کا جو مال لڑائی کے بعد ملے وہ غنیمت ہے اور جو مال لڑائی کے بغیر ہاتھ لگے وہ فئی ہے۔ غنیمت میں پانچواں حصہ نکالنے کے بعد بقیہ سب لشکر کا حصہ ہے۔ اور فئی سب کا سب اسلامی حکومت کی ملکیت ہے جو مصالحِ عامہ کے لیے خرچ کیا جائے گا۔

اسلام چاہتا ہے کہ مال کسی ایک طبقہ میں محدود ہو کر نہ رہ جائے۔ بلکہ وہ ہر طبقہ کے درمیان پہنچے۔ اسلام میں معاشی جبر نہیں ہے۔ تاہم اس کے معاشی قوانین اس طرح بنائے گئے ہیں کہ دولت سمٹ کر چند لوگوں میں محدود نہ ہوجائے، بلکہ وہ ہر سوسائٹي کے تمام لوگوں میں گردش کرتی رہے۔