Se connecter
Se connecter
Se connecter
Sélectionner la langue

Tafsir: Al-Baqarah 2:109

2:109
ود كثير من اهل الكتاب لو يردونكم من بعد ايمانكم كفارا حسدا من عند انفسهم من بعد ما تبين لهم الحق فاعفوا واصفحوا حتى ياتي الله بامره ان الله على كل شيء قدير ١٠٩
وَدَّ كَثِيرٌۭ مِّنْ أَهْلِ ٱلْكِتَـٰبِ لَوْ يَرُدُّونَكُم مِّنۢ بَعْدِ إِيمَـٰنِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًۭا مِّنْ عِندِ أَنفُسِهِم مِّنۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ ٱلْحَقُّ ۖ فَٱعْفُوا۟ وَٱصْفَحُوا۟ حَتَّىٰ يَأْتِىَ ٱللَّهُ بِأَمْرِهِۦٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ ١٠٩
وَدَّ
كَثِيرٞ
مِّنۡ
أَهۡلِ
ٱلۡكِتَٰبِ
لَوۡ
يَرُدُّونَكُم
مِّنۢ
بَعۡدِ
إِيمَٰنِكُمۡ
كُفَّارًا
حَسَدٗا
مِّنۡ
عِندِ
أَنفُسِهِم
مِّنۢ
بَعۡدِ
مَا
تَبَيَّنَ
لَهُمُ
ٱلۡحَقُّۖ
فَٱعۡفُواْ
وَٱصۡفَحُواْ
حَتَّىٰ
يَأۡتِيَ
ٱللَّهُ
بِأَمۡرِهِۦٓۗ
إِنَّ
ٱللَّهَ
عَلَىٰ
كُلِّ
شَيۡءٖ
قَدِيرٞ
١٠٩
Nombre de gens du Livre aimeraient par jalousie de leur part, pouvoir vous rendre mécréants après que vous ayez cru. Et après que la vérité s’est manifestée à eux? Pardonnez et oubliez jusqu’à ce qu’Allah fasse venir Son commandement. Allah est très certainement Omnipotent!
Tafsirs
Niveaux
Leçons
Réflexions
Réponses
Qiraat
Hadith
Vous lisez un tafsir pour le groupe d'Ayahs 2:109 à 2:112

قرآن کی آواز اگرچہ بہت سے لوگوں کے لیے نامانوس آواز تھی۔ تاہم انھیں میں ایسے لوگ بھی تھے جو اس کو اپنے دل کی آواز پاکر اسلام کے دائرے میں داخل ہوتے جارہے تھے۔ یہ صورت حال قدیم آسمانی کتابوں کی حامل قوم کے لیے ناقابلِ برداشت بن گئی۔ کیوں کہ یہ ایک ایسی چیز کی ترقی کے ہم معنی تھی جس کو وہ بے حقیقت سمجھ کر نظر انداز کيے ہوئے تھے۔ انھوں نے یہ کیا کہ ایک طرف مشرکین کو ابھار کر ان کو اسلام کے خلاف جنگ پر آمادہ کردیا۔ دوسری طرف وہ نئے اسلام لانے والوں کو طرح طرح کے شبہات اور مغالطے میں ڈالتے تاکہ وہ قرآن اور صاحب قرآن سے بد ظن ہوجائیں ، اور دوبارہ اپنے آبائی مذہب کی طرف واپس چلے جائیں ۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر ایسے لوگوں کے خلاف اشتعال پیدا ہونا فطری تھا۔ مگر اللہ نے اس سے ان کو منع فرمادیا۔ حکم ہوا کہ ان سے بحث مباحثہ یا ان کے خلاف کوئی جارحانہ کارروائی موجودہ مرحلہ میں ہر گز نہ کی جائے۔ اس معاملہ میں تمام تر اللہ پر بھروسہ کیا جائے اور اس وقت کا انتظار کیا جائے جب اللہ تعالیٰ حالات میں ایسی تبدیلی کردے کہ ان کے خلاف کوئی فیصلہ کن کارروائی کرنا ممکن ہوجائے۔ بروقت مسلمانوں کو چاہيے کہ وہ صبر کریں اور نماز اورزکوۃ پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوجائیں ۔ صبر آدمی کو اس سے بچاتاہے کہ وہ رد عمل کی نفسیات کے تحت منفی کارروائیاں کرنے لگے۔ نماز آدمی کو اللہ سے جوڑتی ہے۔ اور اپنے مال میں دوسرے بھائیوں کو حق دار بنانا وہ چیز ہے جس سے باہمی خیر خواہی اور اتحاد کی فضا پیدا ہوتی ہے۔

نئے اسلام لانے والوں سے وہ کہتے کہ تم کو اپنا آبائی مذہب چھوڑنا ہے تو نیا مذہب اختیار کرنے کے بجائے پہلے سے موجود آسمانی مذاہب میں سے کوئی ایک اختیار کر لو، یہودی بن جاؤ یا پھر عیسائی بن جاؤ۔ کیوں کہ جنت تو یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے ہے جو ہمیشہ سے نبیوں اور بزرگوں کی جماعت رہی ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ کسی گروہ سے وابستگی کسی کو جنت کا مستحق نہیں بناتی۔ جنت کا فیصلہ آدمی کے اپنے عمل کی بنیاد پر کیا جاتاہے، نہ کہ گروہی فضیلت کی بنیاد پر۔ احسان کے معنی ہیں کسی کام کو اچھی طرح کرنا۔ اسلام میں اچھا ہونا یہ ہے کہ اللہ کے لیے آدمی کی حوالگی اتنی کامل ہو کہ ہر دوسری چیز کی اہمیت اس کے ذہن سے حذف ہوجائے۔ گروہی تعصبات، شخصی وفاداریاں اور دنیوی مصالح کوئی بھی چیز اس کے لیے اللہ کی آواز کی طرف دوڑ پڑنے میں رکاوٹ نہ بنے۔