Se connecter
Se connecter
Se connecter
Sélectionner la langue

Tafsir: Yunus 10:60

10:60
وما ظن الذين يفترون على الله الكذب يوم القيامة ان الله لذو فضل على الناس ولاكن اكثرهم لا يشكرون ٦٠
وَمَا ظَنُّ ٱلَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى ٱلنَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُونَ ٦٠
وَمَا
ظَنُّ
ٱلَّذِينَ
يَفۡتَرُونَ
عَلَى
ٱللَّهِ
ٱلۡكَذِبَ
يَوۡمَ
ٱلۡقِيَٰمَةِۗ
إِنَّ
ٱللَّهَ
لَذُو
فَضۡلٍ
عَلَى
ٱلنَّاسِ
وَلَٰكِنَّ
أَكۡثَرَهُمۡ
لَا
يَشۡكُرُونَ
٦٠
Et que penseront, au Jour de la Résurrection, ceux qui forgent le mensonge contre Allah ? - Certes, Allah est Détenteur de grâce pour les gens, mais la plupart d’entre eux ne sont pas reconnaissants.
Tafsirs
Niveaux
Leçons
Réflexions
Réponses
Qiraat
Hadith
Vous lisez un tafsir pour le groupe d'Ayahs 10:57 à 10:60

انسان ایک نفسیاتی مخلوق ہے۔ نفسیات کے بننے سے وہ بنتا ہے اور نفسیات کے بگڑنے سے وہ بگڑ جاتا ہے۔ خدا کی کتاب کی صورت میں جو ہدایت اتری ہے وہ انسان کے لیے سراسر رحمت ہے۔ اس میں انسان کے لیے بہترین نصیحت موجود ہے۔ مگر اس نصیحت کو پانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی نے اپنی راست فکری نہ کھو ئی ہو۔ جو شخص اپنی راست فکری کی صلاحیت کو بگاڑ لے، اس کے لیے خدا کا نصیحت نامہ بے اثر رہے گا۔

موجودہ دنیا کی چیزیں اور اس کی رونقیں آدمی کے سامنے ’’نقد‘‘ ہوتی ہیں۔ آدمی ہر آن ان کی لذت اور خوبی کا تجربہ کرتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں آخرت کی نعمتیں صرف ’’وعدہ‘‘ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آدمی صرف ان کے بارے میں سنتا ہے، وہ ان کا تجربہ نہیں کرتا۔ اس بنا پر اکثر لوگ دنیا کی نقد چیزوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ مگر جو شخص گہرائی کے ساتھ سوچے گا وہ اس بات پر خوش ہوگا کہ خدا نے اپنی ہدایت اتار کر ا س کے لیے ابدی نعمتوں کے حصول کا دروازہ کھول دیا ہے۔

اللہ نے جو کچھ انسان کو دیا ہے، خواہ وہ زرعی پیداوار کی صورت میں ہو یا دوسری صورت میں، سب کا سب رزق ہے۔ آدمی اگر ان چیزوں کو خدا کا دیا ہوا سمجھے اور خداکے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق ان میں تصرف کرے تو اس کے اندر خدا کے شکر کا جذبہ ابھرے گا۔ مگر شیطان ہمیشہ اس کوشش میں رہتاہے کہ وہ اس نسبت کو بدل دے، تاکہ اس ’’رزق‘‘ کے استعمال کے وقت آدمی کو خدائی یاد نہ آئے بلکہ دوسری چیزوں کی یاد آئے — قدیم زمانہ میں شیطان نے پیداوار میں مفروضہ دیوی دیوتاؤں کے مراسم مقرر كيے تاکہ آدمی ان کو لیتے ہوئے خدا کو یاد نہ کرے بلکہ دیوی دیوتاؤں کو یاد کرلے۔ موجودہ زمانہ میں یہی مقصد شیطان مادی توجیہات کے ذریعے حاصل کررہا ہے۔ وہ خدا کی طرف سے ملنے والی چیز کو مادی عوامل کے تحت ملنے والی چیز بنا کر لوگوں کو دکھا رہا ہے تا کہ لوگ جب ان نعمتوں کو پائیں تو وہ اس کو خدا کا رزق نہ سمجھیں بلکہ صرف مادہ کا کرشمہ سمجھیں۔