Se connecter
Se connecter
Se connecter
Sélectionner la langue

Tafsir: Al-Mujadalah 58:18

58:18
يوم يبعثهم الله جميعا فيحلفون له كما يحلفون لكم ويحسبون انهم على شيء الا انهم هم الكاذبون ١٨
يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ ٱللَّهُ جَمِيعًۭا فَيَحْلِفُونَ لَهُۥ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ ۖ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَىٰ شَىْءٍ ۚ أَلَآ إِنَّهُمْ هُمُ ٱلْكَـٰذِبُونَ ١٨
يَوۡمَ
يَبۡعَثُهُمُ
ٱللَّهُ
جَمِيعٗا
فَيَحۡلِفُونَ
لَهُۥ
كَمَا
يَحۡلِفُونَ
لَكُمۡ
وَيَحۡسَبُونَ
أَنَّهُمۡ
عَلَىٰ
شَيۡءٍۚ
أَلَآ
إِنَّهُمۡ
هُمُ
ٱلۡكَٰذِبُونَ
١٨
Le jour où Allah les ressuscitera tous, ils Lui jureront alors comme ils vous jurent à vous-mêmes, pensant s’appuyer sur quelque chose de solide. Mais ce sont eux les menteurs.
Tafsirs
Niveaux
Leçons
Réflexions
Réponses
Qiraat
Hadith
Vous lisez un tafsir pour le groupe d'Ayahs 58:18 à 58:19

یوم یبعثھم ................ لکم (85 : 81) ” جس روز اللہ ان سب کو اٹھائے گا ، وہ اس کے سامنے بھی اسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے کھاتے ہیں “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفاق ان کی گھٹی میں پڑگیا ہے۔ قیامت میں بھی یہ ان کے ساتھ رہے گا۔ اور اللہ ذوالجلال کے سامنے بھی یہ جھوٹی قسمیں اٹھانے کی جرات کریں گے۔ حالانکہ اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ اللہ تو دل کی باتیں بھی جانتا ہے۔

ویحسبون ................ شیئ (85 : 81) ” اور اپنے نزدیک یہ سمجھیں گے ج کہ اس سے ان کا کچھ کام بن جائے گا “۔ حالانکہ وہ ہوا میں لٹک رہے ہیں ان کے پاؤں تلے تو زمین نہیں ہے .... حقیقی جھوٹے ہیں یہ لوگ۔

الا انھم ............ الکذبون (85 : 81) ” وہ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں “۔

ان کی ان حرکان کا سبب یہ ہے کہ شیطان ان پر پوری طرح چھایا گیا ہے۔

فانسھم ذکر اللہ (85 : 91) ” اس نے اللہ کی اد ان کے دل سے بھلا دی ہے “۔ اور جو دل اللہ کو بھلا دیتا ہے وہ بگڑ جاتا ہے اور شر کے لئے خالص ہوجاتا ہے۔

اولئک حزب الشیطن (85 : 91) ” یہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں “۔ اور شیطان کی پارٹی خالص اس کے لئے کام کرتی ہے ، اس کے جھنڈے تلے چلتی ہے۔ اس کے نام سے کام کرتی ہے۔ اس کے مقاصد پورے کرتی ہے۔ یہ پارٹی خالص شر ہے اور خالص خسارے میں پڑے گی۔

الا ان ................ الخسرون (85 : 91) ” خبردار رہو ، شیطان کی پارٹی والے ہی خسارے میں رہنے والے ہیں “۔ یہ بہت ہی شدید اور سخت تنقیدی حملہ ہے جو ان منافقین پر کیا گیا۔ یہ طویل تنقیدی حملہ اس لئے کیا گیا کہ وہ رات دن نہایت ہی خطرناک سازشوں میں مصروف تھے۔ رات دن یہودیوں سے مل کر مسلمانوں کے خلاف تدابیر سوچتے تھے۔ اس تنقیدی حملے سے ظاہر ہے کہ مسلمانوں کو خوب اطمینان ہوا ہوگا اور آئندہ بھی ہوگا کہ ان کی جانب سے اللہ خود تدابیر کرتا ہے۔

یہ منافقین یہودیوں کے ہاں پناہ لیتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ یہودی ایک قابل لحاظ قوت ہیں ، ان سے لوگ ڈرتے ہیں اور امیدیں بھی انہی سے وابستہ ہیں۔ اور یہ لوگ اسی غرض سے ان سے مشورہ اور معاونت طلب کرتے ہیں۔ اس لئے اللہ ان کو یہودیوں سے مایوس فرماتا ہے اور کہتا ہے کہ ان یہودیوں پر تو ذلت اور شکست لکھ دی گئی ہے۔ اور اللہ بھی غالب ہے اور اس کا رسول بھی غالب رہے گا۔