Se connecter
Se connecter
Se connecter
Sélectionner la langue

Tafsir: Al-Qamar 54:35

54:35
نعمة من عندنا كذالك نجزي من شكر ٣٥
نِّعْمَةًۭ مِّنْ عِندِنَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِى مَن شَكَرَ ٣٥
نِّعۡمَةٗ
مِّنۡ
عِندِنَاۚ
كَذَٰلِكَ
نَجۡزِي
مَن
شَكَرَ
٣٥
à titre de bienfait de Notre part : ainsi récompensons-Nous celui qui est reconnaissant.
Tafsirs
Niveaux
Leçons
Réflexions
Réponses
Qiraat
Hadith
Vous lisez un tafsir pour le groupe d'Ayahs 54:34 à 54:35

انا ارسلنا ............ من شکر (45:5 3) ” اور ہم نے اس پر پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیجی۔ صرف لوط کے گھر والے اس سے محفوظ رہے۔ ان کو ہم نے اپنے فضل سے رات کے پچھلے پہر بچا کر نکال لیا۔ یہ جزا دیتے ہیں ہم ہر اس شخص کو جو شکرگزار ہوتا ہے۔ “

الحاصب وہ ہوا جو پتھروں کو اڑا کر پھینک دیتی ہو اور دوسری جگہ آیا ہے کہ ان پر مٹی کے پتھر پھینکے گئے تھے۔ لفظ حاصب کی آواز ہی ایسی ہے جس سے پتھر پھینکے جانے کی آواز آتی ہے۔ اس میں شدت اور سختی ہے جو اس وقت منظر اور فضا کے مناسب ہے۔ اس عذاب سے صرف لوط (علیہ السلام) کے خاندان کے لوگ بچے۔ ماسوائے ان کی اہلیہ کے اور بچنے والے اس لئے بچے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرتے تھے اور اللہ شکر کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتا ہے۔ ان کو اللہ عذاب سے نجات دیتا ہے اور وہ خوفناک حادثات کے درمیان سے بھی بچ کر نکل آتے ہیں۔

قرآن نے یہاں تک اس قصے کے دو اطراف بیان کردیئے۔ ان کی طرف سے جھٹلانا اور اللہ کی طرف سے عذاب شدید ، یہ یہاں اصل مقصد تھا۔ اب قصے کے دونوں اطراف کے درمیان کی بعض ضروری تفصیلات۔ قرآن کریم کا یہ بھی ایک خاص انداز بیان ہے۔ اس انداز سے قرآن کریم بعض اشارات دیتا ہے اور تفصیلات یہ ہیں۔