Se connecter
Se connecter
Se connecter
Sélectionner la langue

Tafsir: Al-Hadid 57:29

57:29
ليلا يعلم اهل الكتاب الا يقدرون على شيء من فضل الله وان الفضل بيد الله يوتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم ٢٩
لِّئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ ٱلْكِتَـٰبِ أَلَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَىْءٍۢ مِّن فَضْلِ ٱللَّهِ ۙ وَأَنَّ ٱلْفَضْلَ بِيَدِ ٱللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ ذُو ٱلْفَضْلِ ٱلْعَظِيمِ ٢٩
لِّئَلَّا
يَعۡلَمَ
أَهۡلُ
ٱلۡكِتَٰبِ
أَلَّا
يَقۡدِرُونَ
عَلَىٰ
شَيۡءٖ
مِّن
فَضۡلِ
ٱللَّهِ
وَأَنَّ
ٱلۡفَضۡلَ
بِيَدِ
ٱللَّهِ
يُؤۡتِيهِ
مَن
يَشَآءُۚ
وَٱللَّهُ
ذُو
ٱلۡفَضۡلِ
ٱلۡعَظِيمِ
٢٩
Cela afin que les gens du Livre sachent qu’ils ne peuvent en rien disposer de la grâce d’Allah et que la grâce est dans la main d’Allah ; Il la donne à qui Il veut, et Allah est le Détenteur de la grâce immense.
Tafsirs
Niveaux
Leçons
Réflexions
Réponses
Qiraat
Hadith

لئلا یعلم ................ من یشاء (75 : 92) ” تاکہ اہل کتاب کو معلوم ہوجائے کہ اللہ کے فضل پر ان کا کوئی اجارہ نہیں ہے۔ اور یہ کہ اللہ کا فضل اس کے اپنے ہی ہاتھ میں ہے ، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے “ اہل کتاب یہ گھمنڈ رکھتے تھے کہ وہ اللہ کی برگزیدہ قوم ہیں اور وہ اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں۔

وقالوا .................... تھتدوا ” وہ کہتے ہیں کہ یہودی بن جاؤ یا نصاریٰ بن جاؤ تمہیں ہدایت مل جائے گی “ تو اللہ تعالیٰ مومنین کو دعوت دیتا ہے کہ اللہ کی رحمت ، اس کی جنت ، اس کی مغفرت اور اس کے انعامات کے مستحق ہوجاؤ اور میں تم پر ان چیزوں کی بارش کروں گا تب اہل کتاب کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ تو زعم باطل میں مبتلا ہیں۔ اور ان کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے۔ فضل تو اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ مسلمانوں پر ہوگیا ہے۔ یہ کسی کے اجارے میں نہیں دے دیا گیا اور نہ محدود کردیا گیا ہے۔

واللہ ................ العظیم (75 : 92) ” اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ “

غرض یہ کہ ایک ایسی دعوت ہے جس میں مسلمانوں کو مقابلے کی دعوت دی گئی۔ کہ تم تقویٰ اور طہارت اور نیکی کی راہ میں آگے بڑھ جاؤ۔ اس پر یہ سورت ختم ہوتی ہے اور سورت کا خاتمہ اور آغاز باہم مل جاتے ہیں۔ کیونکہ اس پوری سورت میں یایھا الذین امنوا کی پکار ہے۔ کہ رب کے سامنے خضوع وخشوع اختیار کرو ، رب کے احکام بجا لاؤ، مالی ، بدنی اور روحانی فرائض پورے کرو۔

قرآن کریم جس انداز میں قلب انسانی کو خطاب کرتا ہے یہ سورت اس کا بہترین نمونہ ہے۔ پر اثرانداز میں انسانوں کو نیکیوں پر ابھارا جاتا ہے ، اس سورت کا آغاز انجام اور سیاق کلام سب انسانوں کو عمل صالح پر آمادہ کرنے والے ہیں۔ اس کی تصاویر ، ماحول اور اثر آفرینیاں قابل دید ہیں ، دعوت اسلامی کا کام کرنے والوں کے لئے اس میں درس عبرت ہیں۔ اس میں اشارات ہیں کہ لوگوں کو کس اسلوب میں خطاب کیا جائے اور کس انداز میں جوش دلایا جائے ........ یہ اللہ کا درس ہے۔ جس نے ہمارے دل بنائے ہیں اور جو ہر چیز کا خالق ہے۔ داعیوں کو چاہئے کہ وہ اس ربانی درسگاہ سے سیکھ کر نکلیں تاکہ ان کی دعوت کامیاب ہو۔