Se connecter
Se connecter
Se connecter
Sélectionner la langue

Tafsir: Al-Mu'minune 23:69

23:69
ام لم يعرفوا رسولهم فهم له منكرون ٦٩
أَمْ لَمْ يَعْرِفُوا۟ رَسُولَهُمْ فَهُمْ لَهُۥ مُنكِرُونَ ٦٩
أَمۡ
لَمۡ
يَعۡرِفُواْ
رَسُولَهُمۡ
فَهُمۡ
لَهُۥ
مُنكِرُونَ
٦٩
Ou n’ont-ils pas connu leur Messager, au point de le renier ?
Tafsirs
Niveaux
Leçons
Réflexions
Réponses
Qiraat
Hadith
Vous lisez un tafsir pour le groupe d'Ayahs 23:68 à 23:71

حق وہ ہے جو حقیقتِ واقعہ کے مطابق ہو۔ مگر خواہش پرست انسان یہ چاہنے لگتا ہے کہ حق کو اس کی خواہش کے تابع کردیا جائے۔ اس قسم کے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ داعی جب حق بات کہتا ہے تو وہ اس سے ناراض ہوجاتے ہیں۔ وہ حق کے تابع نہیں بننا چاہتے۔ اس ليے وہ چاہنے لگتے ہیں کہ حق کو ان کے تابع کردیا جائے۔ اپنی اس نفسیات کی بنا پر وہ حق کی آواز پر دھیان نہیں دیتے۔ حق ان کو اجنبی دکھائی دیتا ہے۔ وہ داعی حق کو اس کی اصل حیثیت میں پہچان نہیں پاتے۔ اپنے کو برسر حق ظاہر کرنے کے ليے وہ داعی کو مطعون کرنے لگتے ہیں۔

کائنات میں کامل درستگی نظر آتی ہے۔ اس کے برعکس، انسانی دنیا میں ہر طرف فساداور بگاڑ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کائنات کا نظام حق کی بنیاد پر چل رہا ہے۔ یعنی وہی ہونا جو ہونا چاہيے، اور وہ نہ ہونا جو نہ ہونا چاہيے۔ اب اگر کائنات کا نظام بھی انسان کی خواہشوں پر چلنے لگے تو جو فساد انسانی دنیا میں ہے وہی فساد بقیہ کائنات میں بھی برپا ہوجائے گا۔

نصیحت اور تنقید ہمیشہ آدمی کے ليے سب سے زیادہ تلخ چیز ہوتی ہے۔ بہت ہی کم وہ خداکے بندے ہیں جو نصیحت اور تنقید کو کھلے ذہن کے ساتھ سنیں۔ بیشتر لوگ اس کو نظر انداز کرکے گزر جاتے ہیں۔