Se connecter
Se connecter
Se connecter
Sélectionner la langue

Tafsir: Nuh 71:7

71:7
واني كلما دعوتهم لتغفر لهم جعلوا اصابعهم في اذانهم واستغشوا ثيابهم واصروا واستكبروا استكبارا ٧
وَإِنِّى كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوٓا۟ أَصَـٰبِعَهُمْ فِىٓ ءَاذَانِهِمْ وَٱسْتَغْشَوْا۟ ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا۟ وَٱسْتَكْبَرُوا۟ ٱسْتِكْبَارًۭا ٧
وَإِنِّي
كُلَّمَا
دَعَوۡتُهُمۡ
لِتَغۡفِرَ
لَهُمۡ
جَعَلُوٓاْ
أَصَٰبِعَهُمۡ
فِيٓ
ءَاذَانِهِمۡ
وَٱسۡتَغۡشَوۡاْ
ثِيَابَهُمۡ
وَأَصَرُّواْ
وَٱسۡتَكۡبَرُواْ
ٱسۡتِكۡبَارٗا
٧
Et chaque fois que je les ai appelés pour que Tu leur pardonnes, ils ont mis leurs doigts dans leurs oreilles, se sont enveloppés de leurs vêtements, se sont entêtés et se sont montrés extrêmement orgueilleux.
Tafsirs
Niveaux
Leçons
Réflexions
Réponses
Qiraat
Hadith
Vous lisez un tafsir pour le groupe d'Ayahs 71:7 à 71:8

وانی کلما ........................ استکبار (17 : 7) ” اور جب بھی میں ان نے ان کو بلایا تاکہ تو انہیں معاف کردے ، انہوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑوں سے منہ ڈھانک لئے اور اپنی روش پر اڑ گئے اور بڑا تکبر کیا “۔ یہ ہے انداز داعی حق کا کہ وہ اپنی دعوت پر اصرار کرتا ہے او جونہی اور جب بھی اسے موقعہ ملے وہ کلمہ حق کہہ دیتا ہے جبکہ اہل کفر کے اصرار کی بھی یہ ایک مثال ہے کہ جب وہ ہٹ دھرمی پر اترآئیں تو منہ بھی چھپالیتے ہیں۔ اس دعوت اور اس انکار سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی ایام میں جبکہ بشریت عہد طفولیت میں تھی۔ دعوت کے شب وروز کیا تھے کہ لوگ کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے تھے اور سروں کو چادروں میں چھپا لیتے تھے۔ انداز تعبیر سے لوگوں کا کافرانہ طرز عمل ظاہر ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ یہ انگلیوں کو کانوں میں ٹھونس لیتے ہیں۔ پوری انگلیاں تو کانوں میں نہیں ٹھونسی جاتیں مگر یہ مبالغہ کے لئے کہا گیا کہ وہ کانوں کو یوں بند کررہے ہیں کہ آواز کسی طرح بھی ان کے کانوں تک نہ پہنچ سکے۔ گویا یہ کوشش کررہے تھے کہ پوری انگلی کو کانوں میں ٹھونس لیں۔ یہ سخت اصرار اور ہٹ دھرمی کی شکل ہے اور ابتدائی ادوار میں یہی صورت حالات تھی۔