Se connecter
Se connecter
Se connecter
Sélectionner la langue

Tafsir: Ya-Sin 36:68

36:68
ومن نعمره ننكسه في الخلق افلا يعقلون ٦٨
وَمَن نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِى ٱلْخَلْقِ ۖ أَفَلَا يَعْقِلُونَ ٦٨
وَمَن
نُّعَمِّرۡهُ
نُنَكِّسۡهُ
فِي
ٱلۡخَلۡقِۚ
أَفَلَا
يَعۡقِلُونَ
٦٨
A quiconque Nous accordons une longue vie, Nous faisons baisser sa forme. Ne comprennent-ils donc pas ?
Tafsirs
Niveaux
Leçons
Réflexions
Réponses
Qiraat
Hadith

ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق ، افلا یعقلون (68) ” جب انسان بہت بوڑھا ہوجاتا ہے تو وہ دوبارہ الٹ کر طفل ناتواں بن جاتا ہے۔ لیکن اس میں بچوں جیسی محبوبیت اور کشش نہیں ہوتی۔ یوں بوڑھے لوگ پیچھے کی طرف چلتے رہتے ہیں۔ ان کے پاس جو علم تھا ، اسے بھولتے جاتے ہیں۔ ان کے اعصاب کمزور ہوتے جاتے ہیں۔ ان کی فکر مضحمل ہوتی جاتی ہے۔ ان کی قوت برداشت ختم ہوتی جاتی ہے۔ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ایسا انسان خالص بچہ ہوجاتا ہے۔ فرق یہ ہوتا ہے کہ بچہ اگر توتلی زبان بھی بولتا ہے تو اچھا لگتا ہے۔ لوگ اسے دیکھ کر مسکرا دیتے ہیں۔ وہ اگر کوئی حماقت کرتا ہے تو بھی دیکھنے والے خوش ہوتے ہیں۔ لیکن بوڑھا تو کبیدہ خاطر ہوتا ہے۔ اس کی حماقتوں کو محض رحم اور احترام ہی سے برداشت کیا جاسکتا ہے۔ اور جوں جوں اور کی قوتیں مضحمل ہوتی ہیں اور اس سے حماقتیں سرزد ہوتی ہیں۔ لوگ اس کے ساتھ مزاح کرتے ہیں۔ جوں وہ ناتواں ہوتا ہے اس کی کمر ٹیڑھی ہوتی ہے وہ پیچھے ہٹتا چلا جاتا ہے۔ دونوں صورتوں میں یہ برا انجام ہے جو دعوت اسلامی کو جھٹلانے والوں کے انتظار میں ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کے اعمال کی وجہ سے اللہ نے رشد و ہدایت سے محروم کردیا ہے اور ایمان کی وجہ سے ان کو جو اعزاز ملنے والا تھا ، اس سے وہ بےبہرہ رہ گئے۔