Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Ghafir 40:27

40:27
وقال موسى اني عذت بربي وربكم من كل متكبر لا يومن بيوم الحساب ٢٧
وَقَالَ مُوسَىٰٓ إِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُم مِّن كُلِّ مُتَكَبِّرٍۢ لَّا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ ٱلْحِسَابِ ٢٧
وَقَالَ
مُوسَىٰٓ
إِنِّي
عُذۡتُ
بِرَبِّي
وَرَبِّكُم
مِّن
كُلِّ
مُتَكَبِّرٖ
لَّا
يُؤۡمِنُ
بِيَوۡمِ
ٱلۡحِسَابِ
٢٧
Moses replied, “I seek refuge in my Lord and your Lord from every arrogant person who does not believe in the Day of Reckoning.”
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

آیت نمبر 27

حضرت موسیٰ نے یہ بات کہہ دی اور مطمئن ہوگئے اور اپنی حفاظت کا معاملہ اس ذات کے سپرد کردیا جو ہر متکبر سے بلند ہے۔ ہر جبار کے اوپر ہے اور تمام دوسرے جباروں سے بھاگ کر اس کی پناہ میں آنے والوں کی حفاظت کرتا ہے۔ حضرت نے یہ کہا کہ وہ اس رب کی پناہ میں ہیں جو خود میں ہیں جو خود ان کافروں کا بھی رب ہے اور ہمارا بھی رب ہے ، اللہ نے ہمیں بھلا نہیں دیا اور نہ فرعون کی دھمکیوں کے مقابلے میں بےسہارا چھوڑدیا ہے۔ یہ لوگ تو یوم الحساب پر ایمان نہیں رکھتے ۔ اس لیے یہ زمین میں اپنی کبریائی قائم کرتے ہیں۔ کوئی شخص جو قیامت کی جوابدہی پر ایمان رکھتا ہو وہ متکبر نہیں بن سکتا۔ کیونکہ وہ تصور کرسکتا ہے کہ قیامت کے دن لوگ کس قدر ذلیل ، سہمے ہوئے اور ڈرے ہوئے ہوں گے۔ کوئی قوت اور طاقت اور کوئی سہارا نہ ہوگا ، نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارشی ہوگا اور نہ کوئی فدیہ دیا جاسکے گا۔

اب یہاں منظر پر خود فرعون کے حاشیہ نشینوں میں سے ایک شخص آتا ہے۔ اس کے دل پر سچائی اثر انداز ہوگئی لیکن اس نے اپنا ایمان ابھی چھپارکھا ہے۔ یہ شخص حضرت موسیٰ کی مدافعت میں آواز بلند کرتا ہے ، کوشش کرتا ہے کہ لوگ حضرت موسیٰ کے قتل سے باز آجائیں۔ یہ اپنی تقریر میں مختلف پہلوؤں سے بات کرتا ہے۔ یہ اپنی ناصحانہ باتیں ان کے دلوں میں اتارنے کی کوشش کرتا ہے ، ان کے اچھے جذبات کو ابھارتا ہے ، ان کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہے اور انجام بد سے بھی ڈراتا ہے۔