Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Ghafir 40:66

40:66
۞ قل اني نهيت ان اعبد الذين تدعون من دون الله لما جاءني البينات من ربي وامرت ان اسلم لرب العالمين ٦٦
۞ قُلْ إِنِّى نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَمَّا جَآءَنِىَ ٱلْبَيِّنَـٰتُ مِن رَّبِّى وَأُمِرْتُ أَنْ أُسْلِمَ لِرَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ٦٦
۞ قُلۡ
إِنِّي
نُهِيتُ
أَنۡ
أَعۡبُدَ
ٱلَّذِينَ
تَدۡعُونَ
مِن
دُونِ
ٱللَّهِ
لَمَّا
جَآءَنِيَ
ٱلۡبَيِّنَٰتُ
مِن
رَّبِّي
وَأُمِرۡتُ
أَنۡ
أُسۡلِمَ
لِرَبِّ
ٱلۡعَٰلَمِينَ
٦٦
Say, ˹O Prophet,˺ “I have been forbidden to worship those ˹idols˺ you worship besides Allah, since clear proofs have come to me from my Lord. And I have been commanded to ˹fully˺ submit to the Lord of all worlds.”
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 40:66 to 40:68

ان آیات میں فطرت کے کچھ واقعات کا ذکر ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہوا ہے ’’یہ اس ليے ہے تاکہ تم غورکرو‘‘— گویا فطرت کے یہ مادی واقعات اپنے اندر کچھ معنوی سبق ليے ہوئے ہیں۔ اور انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ غور کرکے اس چھپے ہوئے سبق تک پہنچے۔

فطرت کے جن واقعات کا یہاں ذکر کیاگیا ہے وہ ہیں— بے جان مادہ کا تبدیل ہوکر جان دار چیز بن جانا، انسان کا تدریجی انداز میں نشوو نما پانا۔جوانی تک پہنچ کر پھر آدمی پر بڑھاپا طاری ہونا، زندہ انسان کا دوبارہ مرجانا، کبھی کم عمری میں اور کبھی زیادہ عمر میں، یہ واقعات خالق کی مختلف صفات کا تعارف ہیں۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ اس کائنات کا وجود میں لانے والا ایک ایسا خداہے جو قادر اور حکیم ہے، وہ سب پر غالب اور بالادست ہے۔

اگر آدمی ان واقعات سے حقیقی سبق لے تو ا س کا ذہن پکار اٹھے گا کہ ایک خدا ہی اس کا سزاوار ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور اس کو اپنا آخری مطلوب سمجھا جائے۔ عالم کا یہ نقشہ بزبان حال ان تمام معبودوں کی تردید کررہا ہے جو ایک خدا کو چھوڑ کر بنائے گئے ہوں۔