Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Ibrahim 14:9

14:9
الم ياتكم نبا الذين من قبلكم قوم نوح وعاد وثمود والذين من بعدهم لا يعلمهم الا الله جاءتهم رسلهم بالبينات فردوا ايديهم في افواههم وقالوا انا كفرنا بما ارسلتم به وانا لفي شك مما تدعوننا اليه مريب ٩
أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَبَؤُا۟ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوحٍۢ وَعَادٍۢ وَثَمُودَ ۛ وَٱلَّذِينَ مِنۢ بَعْدِهِمْ ۛ لَا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا ٱللَّهُ ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ فَرَدُّوٓا۟ أَيْدِيَهُمْ فِىٓ أَفْوَٰهِهِمْ وَقَالُوٓا۟ إِنَّا كَفَرْنَا بِمَآ أُرْسِلْتُم بِهِۦ وَإِنَّا لَفِى شَكٍّۢ مِّمَّا تَدْعُونَنَآ إِلَيْهِ مُرِيبٍۢ ٩
أَلَمۡ
يَأۡتِكُمۡ
نَبَؤُاْ
ٱلَّذِينَ
مِن
قَبۡلِكُمۡ
قَوۡمِ
نُوحٖ
وَعَادٖ
وَثَمُودَ
وَٱلَّذِينَ
مِنۢ
بَعۡدِهِمۡ
لَا
يَعۡلَمُهُمۡ
إِلَّا
ٱللَّهُۚ
جَآءَتۡهُمۡ
رُسُلُهُم
بِٱلۡبَيِّنَٰتِ
فَرَدُّوٓاْ
أَيۡدِيَهُمۡ
فِيٓ
أَفۡوَٰهِهِمۡ
وَقَالُوٓاْ
إِنَّا
كَفَرۡنَا
بِمَآ
أُرۡسِلۡتُم
بِهِۦ
وَإِنَّا
لَفِي
شَكّٖ
مِّمَّا
تَدۡعُونَنَآ
إِلَيۡهِ
مُرِيبٖ
٩
Have you not ˹already˺ received the stories of those who were before you: the people of Noah, ’Âd, Thamûd, and those after them? Only Allah knows how many they were. Their messengers came to them with clear proofs, but they put their hands over their mouths1 and said, “We totally reject what you have been sent with, and we are certainly in alarming doubt about what you are inviting us to.”
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
موسیٰ علیہ السلام کا باقی وعظ ٭٭

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا باقی وعظ بیان ہو رہا ہے کہ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی وہ نعمتیں یاد دلاتے ہوئے فرمایا کہ ”دیکھو تم سے پہلے کے لوگوں پر رسولوں کے جھٹلانے کی وجہ سے کیسے سخت عذاب آئے؟ اور کس طرح وہ غارت کئے گئے؟“ یہ قول تو ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ کا لیکن ذرا غور طلب ہے۔

بظاہر تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ وعظ تو ختم ہو چکا اب یہ نیا بیان قرآن ہے، کہا گیا ہے کہ ”عادیوں اور ثمودیوں کے واقعات تورات شریف میں تھے اور یہ دونوں واقعات بھی تورات میں تھے“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

فی الجملہ ان لوگوں کے اور ان جیسے اور بھی بہت سے لوگوں کے واقعات قرآن کریم میں ہمارے سامنے بیان ہو چکے ہیں کہ ان کے پاس اللہ کے پیغمبر اللہ کی آیتیں اور اللہ کے دیئے ہوئے معجزے لے کر پہنچے ان کی گنتی کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”نسب کے بیان کرنے والے غلط گو ہیں بہت سے لوگوں کے واقعات قرآن کریم میں ہمارے سامنے بیان ہو چکے ہیں کہ ان کے پاس اللہ کے پیغمبر اللہ کی آیتیں اور اللہ کے دیئے ہوئے معجزے لے کر پہنچے ان کی گنتی کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔‏“ سیدنا عبداللہ فرماتے ہیں ”نسب کے بیان کرنے والے غلط گو ہیں بہت سی امتیں ایسی بھی گزری ہیں جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔‏“ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”معد بن عدنان کے بعد کا نسب نامہ صحیح طور پر کوئی نہیں جانتا۔‏“

وہ اپنے ہاتھ ان کے منہ تک لوٹا لیے گئے کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ رسولوں کے منہ بند کرنے لگے۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ وہ اپنے ہاتھ اپنے منہ پر رکھنے لگے کہ محض جھوٹ ہے جو رسول کہتے ہیں۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ جواب سے لاچار ہو کر انگلیاں منہ پر رکھ لیں۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ اپنے منہ سے انہیں جھٹلانے لگے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہاں پر «فِي» معنی میں ”بے“ کے ہو جیسے بعض عرب کہتے ہیں «‏أَدْخَلَكَ اللَّهُ بِالْجَنَّةِ» یعنی «فِي الْجَنَّةِ» شعر میں بھی یہ محاورہ مستعمل ہے، اور بقول مجاہد رحمہ اللہ اس کے بعد کا جملہ اسی کی تفسیر ہے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے مارے غصے کے اپنی انگلیاں اپنے منہ میں ڈال لیں۔ چنانچہ اور آیت میں منافقین کے بارے میں ہے کہ «وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَيْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ قُلْ مُوْتُوْا بِغَيْظِكُمْ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ» [3-آل عمران:119] ‏ ” یہ لوگ خلوت میں تمہاری جلن سے اپنی انگلیاں چباتے رہتے ہیں “۔ یہ بھی ہے کہ ” کلام اللہ سن کر تعجب سے اپنے ہاتھ اپنے منہ پر رکھ دیتے ہیں اور کہہ گزرتے ہیں کہ ہم تو تمہاری رسالت کے منکر ہیں ہم تمہیں سچا نہیں جانتے بلکہ سخت شبہ میں ہیں “۔

صفحہ نمبر4196