Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa
26:145
وما اسالكم عليه من اجر ان اجري الا على رب العالمين ١٤٥
وَمَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ١٤٥
وَمَآ
أَسۡـَٔلُكُمۡ
عَلَيۡهِ
مِنۡ
أَجۡرٍۖ
إِنۡ
أَجۡرِيَ
إِلَّا
عَلَىٰ
رَبِّ
ٱلۡعَٰلَمِينَ
١٤٥
Dan aku tidak meminta sesuatu imbalan kepadamu atas ajakan ini, imbalanku hanyalah dari Tuhan seluruh alam.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 26:141 hingga 26:145
صالح علیہ السلام اور قوم ثمود ٭٭

اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول صالح علیہ السلام کا واقعہ بیان ہو رہا کہ آپ علیہ السلام اپنی قوم ثمود کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یہ لوگ عرب حجر نامی شہر میں رہتے تھے جو وادی القری اور ملک شام کے درمیان ہے۔ یہ عادیوں کے بعد اور ابراہمیوں سے پہلے تھے شام کی طرف جاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس جگہ سے گزرنے کا بیان سورۃ الاعراف کی تفسیر میں پہلے گزر چکا ہے۔

انہیں ان کے نبی علیہ السلام نے اللہ کی طرف بلایا کہ یہ اللہ کی توحید کو مانیں اور صالح علیہ السلام کی رسالت کا اقرار کریں لیکن انہوں نے بھی انکار کر دیا اور اپنے کفر پر جمے رہے اللہ کے پیغمبر علیہ السلام کو جھوٹا کہا۔ باوجود اللہ سے ڈرتے رہنے کی نصیحت سننے کی پرہیزگاری اختیار نہ کی۔ باوجود رسول امین کی موجودگی کے راہ ہدایت اختیار نہ کی۔ حالانکہ نبی کا صاف اعلان تھا کہ ”میں اپنا کوئی بوجھ تم پر ڈال نہیں رہا میں تو رسالت کی تبلیغ کے اجرا کا صرف اللہ تعالیٰ سے خواہاں ہوں۔‏“ اس کے بعد اللہ کی نعمتیں انہیں یاد دلائیں۔

صفحہ نمبر6275