Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa
2:91
واذا قيل لهم امنوا بما انزل الله قالوا نومن بما انزل علينا ويكفرون بما وراءه وهو الحق مصدقا لما معهم قل فلم تقتلون انبياء الله من قبل ان كنتم مومنين ٩١
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ ءَامِنُوا۟ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ قَالُوا۟ نُؤْمِنُ بِمَآ أُنزِلَ عَلَيْنَا وَيَكْفُرُونَ بِمَا وَرَآءَهُۥ وَهُوَ ٱلْحَقُّ مُصَدِّقًۭا لِّمَا مَعَهُمْ ۗ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُونَ أَنۢبِيَآءَ ٱللَّهِ مِن قَبْلُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ٩١
وَإِذَا
قِيلَ
لَهُمۡ
ءَامِنُواْ
بِمَآ
أَنزَلَ
ٱللَّهُ
قَالُواْ
نُؤۡمِنُ
بِمَآ
أُنزِلَ
عَلَيۡنَا
وَيَكۡفُرُونَ
بِمَا
وَرَآءَهُۥ
وَهُوَ
ٱلۡحَقُّ
مُصَدِّقٗا
لِّمَا
مَعَهُمۡۗ
قُلۡ
فَلِمَ
تَقۡتُلُونَ
أَنۢبِيَآءَ
ٱللَّهِ
مِن
قَبۡلُ
إِن
كُنتُم
مُّؤۡمِنِينَ
٩١
Dan apabila dikatakan kepada mereka, "Berimanlah kepada apa yang diturunkan Allah (Al-Qur`an)," mereka menjawab, "Kami beriman kepada apa yang diturunkan kepada kami." Dan mereka ingkar kepada apa yang setelahnya, padahal (Al-Qur`an) itu adalah yang hak, yang membenarkan apa yang ada pada mereka. Katakanlah (Muhammad), "Mengapa kamu dahulu membunuh nabi-nabi Allah jika kamu orang-orang beriman?"
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 2:91 hingga 2:96

عرب کے اہل کتاب جو قرآن کی دعوت کو ماننے کے لیے تیار نہ ہوئے، اس کی وجہ ان کا یہ احساس تھا کہ وہ پہلے سے حق پر ہیں اور حق پرستوں کی سب سے بڑی جماعت بني اسرائیل) سے وابستگی رکھتے ہیں ۔ مگر یہ دراصل گروہ پرستی تھی جس کو انھوں نے حق پرستی کے ہم معنی سمجھ رکھا تھا۔ وہ گروہی حق کو خالص حق کا مقام ديے ہوئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ حق جب اپنی بے آمیز صورت میں ظاہر ہوا تو وہ اس کو لینے کے لیے آگے نہ بڑھ سکے۔ اگر خالص حق ان کا مقصود ہوتا تو ان کے لیے یہ جاننا مشکل نہ ہوتا کہ قرآن کا آنا خود ان کی مقدس کتاب تورات کی پیشین گوئیوں کے مطابق ہے، اور یہ کہ قرآن کے نزول کے بعد اب قرآن ہی کتابِ حق ہے، نہ کہ ان کا اپنا گر وہی مذہب۔

ان کا معاملہ فی الواقع حق پرستی کا معاملہ نہیں۔ اس کا ثبوت ان کی اپنی تاریخ میں یہ ہے کہ انھوں نے خود اپنے گروہ کے نبیوں (مثلاً حضرت زکریاؑ، حضرت یحيیٰؑ) کو قتل کیا جنھوں نے ان کی زندگیوں پر تنقید کی، جو ’’ان کے خلاف گواہی دیتے تھے تاکہ ان کو خدا کی طرف پھرالائیں (نحمیاہ 9: 26 )۔حضرت موسیٰ ؑنے جو معجزات پیش کيے اس کے بعدان کی نبوت میں کوئی شبہ نہیں رہ گیا تھا۔ مگر کوہ طور کے چالیس روزہ قیام کے زمانہ میں جب حضرت موسیٰ ؑکا شخصی دباؤ ان کے سامنے نہ رہا تو انھوں نے بچھڑے کو معبود بنا لیا۔ ان کے سر پر پہاڑ کھڑا کردیا گیا تب بھی صرف وقتی طورپر جان بچانے کے لیے انھوں نے کہہ دیا کہ ہاں ہم نے سنا۔ مگر اس کے بعد ان کی اکثریت بدستور نافرمانی کی زندگی پر قائم رہی۔ اگر وہ سچ مچ خدا پرست ہوتے توان کی ساری توجہ خدا کی اس دنیا کی طرف لگ جاتی جو موت کے بعد آنے والی ہے۔ مگر ان کا حال یہ ہے کہ وہ سب سے زیادہ موجودہ دنیا کی محبت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔