Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-Hijr 15:15

15:15
لقالوا انما سكرت ابصارنا بل نحن قوم مسحورون ١٥
لَقَالُوٓا۟ إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَـٰرُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌۭ مَّسْحُورُونَ ١٥
لَقَالُوٓاْ
إِنَّمَا
سُكِّرَتۡ
أَبۡصَٰرُنَا
بَلۡ
نَحۡنُ
قَوۡمٞ
مَّسۡحُورُونَ
١٥
tentulah mereka berkata, "Sesungguhnya pandangan kamilah yang dikaburkan, bahkan kami adalah orang yang terkena sihir."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 15:10 hingga 15:15

ہر دور میں خداکے پیغمبروں کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں نے بطور خود جو فرضی معیار کسی کو نمائندۂ خدا قرار دینے کے لیے بنا رکھے تھے، اس پر ان کے پیغمبر پورے نہیں اترتے تھے، اس معیار کے اعتبار سے پیغمبر انھیں کم تر نظر آتا تھا۔ اس لیے لوگوں نے پیغمبروں کو استہزاء کا موضوع بنا لیا۔

کسی نئی حقیقت کو پانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے اور خالص واقعات کی بنیاد پر رائے قائم کرنے کے لیے تیار ہو۔ جو لوگ سچائی کا انکار کرتے ہیں وہ اکثر اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ سچائی ان کو اپنے مانوس معیار کے اعتبار سے اجنبی معلوم ہوتی ہے۔ یہ مانوس معیار لمبے عرصے کے بعد ان کے دل میں ایسا رچ بس جاتا ہے کہ اس سے باہر نکل کر سوچنا ان کے لیے ناممکن ہوجاتاہے۔ وہ آخر وقت تک بھی اپنے مانوس دائرے سے باہر کی سچائی کو پہچان نہیں پاتے۔

قوموں کے اسی مزاج کا نتیجہ تھا کہ معجزے کو دیکھ کر بھی لوگ ایمان نہیں لائے۔ جس شخصیت کے بارے میں ان کے مادی حالات کی بنا پر ان کا یہ ذہن بن گیا تھا کہ یہ ایک معمولی آدمی ہے وہ پھر بھی ان کی نظر میں معمولی ہی رہا۔ بعد کو اگر اس نے کوئی خارقِ عادت چیز دکھائی تو چونكه دوسرے پہلوؤں کے اعتبار سے وہ بظاہر اب بھی ان کے لیے غیر اہم تھي۔ انھوںنے سمجھ لیا کہ یہ کوئی جادو یا نظر بندی ہے، نہ کہ حقیقۃً ان کے نمائندۂ خدا ہونے کا ثبوت۔