Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Az-Zariyat 51:28

51:28
فاوجس منهم خيفة قالوا لا تخف وبشروه بغلام عليم ٢٨
فَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةًۭ ۖ قَالُوا۟ لَا تَخَفْ ۖ وَبَشَّرُوهُ بِغُلَـٰمٍ عَلِيمٍۢ ٢٨
فَأَوۡجَسَ
مِنۡهُمۡ
خِيفَةٗۖ
قَالُواْ
لَا
تَخَفۡۖ
وَبَشَّرُوهُ
بِغُلَٰمٍ
عَلِيمٖ
٢٨
Maka dia (Ibrahim) merasa takut terhadap mereka. Mereka berkata, "Janganlah kamu takut." Dan mereka memberi kabar gembira kepadanya dengan (kelahiran) seorang anak yang alim (Ishak).
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

فاوجس منھم خیفة (15 : 82) ” پھر وہ دل میں ان سے ڈرا “ یا تو اس لئے کہ آنے والا اجنبی اگر کھانا نہیں کھاتا تو اس کی نیت خراب ہے۔ وہ کوئی شریا خیانت کرنے کی نیت سے آیا ہے یا یہ کہ حضرت ابراہیم نے ان فرشتوں کے اندر کوئی عجیب علامات دیکھ لیں۔ جب انہوں نے ان کے چہرے خوف کے آثار دیکھے تو انہوں نے اپنا تعارف کرایا۔ ان کو اطمینان دلایا اور آپ کو ایک بیٹے کی بشارت دی۔

قالوا ........ علیم (15 : 82) ؟ ؟ انہوں نے کہا ڈرو نہیں اور اسے ایک ذی علم لڑکے کی پیدائش کا مژدہ سنایا “ یہ بشارت حضرت اسحاق کے بارے میں تھی جو ان کی بانجھ بیوی سے پیدا ہوئے تھے۔