Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-Hadid 57:10

57:10
وما لكم الا تنفقوا في سبيل الله ولله ميراث السماوات والارض لا يستوي منكم من انفق من قبل الفتح وقاتل اولايك اعظم درجة من الذين انفقوا من بعد وقاتلوا وكلا وعد الله الحسنى والله بما تعملون خبير ١٠
وَمَا لَكُمْ أَلَّا تُنفِقُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلِلَّهِ مِيرَٰثُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ لَا يَسْتَوِى مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ ٱلْفَتْحِ وَقَـٰتَلَ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةًۭ مِّنَ ٱلَّذِينَ أَنفَقُوا۟ مِنۢ بَعْدُ وَقَـٰتَلُوا۟ ۚ وَكُلًّۭا وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلْحُسْنَىٰ ۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌۭ ١٠
وَمَا
لَكُمۡ
أَلَّا
تُنفِقُواْ
فِي
سَبِيلِ
ٱللَّهِ
وَلِلَّهِ
مِيرَٰثُ
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِۚ
لَا
يَسۡتَوِي
مِنكُم
مَّنۡ
أَنفَقَ
مِن
قَبۡلِ
ٱلۡفَتۡحِ
وَقَٰتَلَۚ
أُوْلَٰٓئِكَ
أَعۡظَمُ
دَرَجَةٗ
مِّنَ
ٱلَّذِينَ
أَنفَقُواْ
مِنۢ
بَعۡدُ
وَقَٰتَلُواْۚ
وَكُلّٗا
وَعَدَ
ٱللَّهُ
ٱلۡحُسۡنَىٰۚ
وَٱللَّهُ
بِمَا
تَعۡمَلُونَ
خَبِيرٞ
١٠
Dan mengapa kamu tidak menginfakkan hartamu di jalan Allah, padahal milik Allah semua pusaka langit dan bumi? Tidak sama orang yang menginfakkan (hartanya di jalan Allah) di antara kamu dan berperang sebelum penaklukan (Mekkah). Mereka lebih tinggi derajatnya daripada orang-orang yang menginfakkan (hartanya) dan berperang setelah itu. Dan Allah menjanjikan kepada masing-masing mereka (balasan) yang lebih baik. Dan Allah Mahateliti atas apa yang kamu kerjakan.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 57:7 hingga 57:15

سچا اسلام جب ماحول میں اجنبی ہو، اس وقت سچے اسلام کی طرف بڑھنا اپنے آپ کو آزمائش میں ڈالنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس وقت اسلام کی حقیقت پر شبہات کے پردے پڑے ہوتے ہیں۔ اس وقت اسلام کی راہ میں خرچ کرنا ایسا ہوتا ہے گویا امید موہوم پر کسی کو قرض دینا۔ شک اور تردد کی فضا ہر طرف لوگوں کو گھیرے ہوئے ہوتی ہے۔ خدا کے وعدوں کے مقابلہ میں لوگوں کو اپنے سامنے کے فائدے زیادہ یقینی معلوم ہوتے ہیں۔ ایسے وقت میں اپنی جان و مال کو اسلام کے حوالہ کرنا زبردست قوت فیصلہ چاہتا ہے۔ ایسے وقت میں وہی شخص آگے بڑھنے کی ہمت کرتا ہے جو عقل و بصیرت کی طاقت سے چیزوں کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

جو لوگ دنیا میں اس بصیرت کا ثبوت دیں ان کی بصیرت قیامت کے دن ان کے لیے روشنی بن جائے گی جس میں وہ وہاں کے مشکل مراحل میں اپنا سفر طے کرسکیں۔ جو بصیرت دنیا میں ان کی رہنما بنی تھی وہی بصیرت آخرت میں بھی اللہ کی مدد سے ان کے لیے رہنما کا کام انجام دے گی۔