Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-Hadid 57:14

57:14
ينادونهم الم نكن معكم قالوا بلى ولاكنكم فتنتم انفسكم وتربصتم وارتبتم وغرتكم الاماني حتى جاء امر الله وغركم بالله الغرور ١٤
يُنَادُونَهُمْ أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ ۖ قَالُوا۟ بَلَىٰ وَلَـٰكِنَّكُمْ فَتَنتُمْ أَنفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَٱرْتَبْتُمْ وَغَرَّتْكُمُ ٱلْأَمَانِىُّ حَتَّىٰ جَآءَ أَمْرُ ٱللَّهِ وَغَرَّكُم بِٱللَّهِ ٱلْغَرُورُ ١٤
يُنَادُونَهُمۡ
أَلَمۡ
نَكُن
مَّعَكُمۡۖ
قَالُواْ
بَلَىٰ
وَلَٰكِنَّكُمۡ
فَتَنتُمۡ
أَنفُسَكُمۡ
وَتَرَبَّصۡتُمۡ
وَٱرۡتَبۡتُمۡ
وَغَرَّتۡكُمُ
ٱلۡأَمَانِيُّ
حَتَّىٰ
جَآءَ
أَمۡرُ
ٱللَّهِ
وَغَرَّكُم
بِٱللَّهِ
ٱلۡغَرُورُ
١٤
Orang-orang munafik memanggil orang-orang mukmin, "Bukankah kami dahulu bersama kamu?" Mereka menjawab, "Benar, tetapi kamu mencelakakan dirimu sendiri, dan kamu hanya menunggu, meragukan (janji Allah) dan ditipu oleh angan-angan kosong sampai datang ketetapan Allah; dan penipu (setan) datang memperdaya kamu tentang Allah.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

ینادونھم ............ معکم (75 : 41) ” وہ انہیں پکار کر کہیں گے ” کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے “ ؟ اب ہم کیوں جدا ہورہے ہیں۔ دنیا میں تو ہم تمہارے ساتھ ایک ہی جگہ زندہ رہے تھے۔ ایک ہی سطح پر اور یہاں بھی ہم ایک ہی جگہ تمہارے ساتھ اٹھائے گئے ہیں۔

قالو بلی (75 : 41) وہ کہیں ہاں “ معاملہ تو ایسا ہی ہے۔

ولکنکم ................ انفسکم (75 : 41) ” مگر تم نے اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالا “۔ تم نے اپنے آپ کو ہدایت سے توڑ لیا۔

وتربصتم (75 : 41) ” موقع پرستی کی “۔ تم نے عزم کرکے فیصلہ کن انداز میں حق کا راستہ اختیار نہ کیا۔

وارتبتم (75 : 41) ” شک میں پڑے رہے “۔ تمہیں یقین کی وہ دولت نہ دی گئی جس کے ذریعے تم آتش نمرود میں کود جاتے۔

وغرتکم الامانی (75 : 41) ” اور جھوٹی توقعات تمہیں دھوکہ دیتی رہیں “۔ تم نے یہ سوچا کہ اسی طرح تذبذب منافقت اور لاٹھی کو دونوں جانب سے پکڑنے میں کامیابی ہے۔

حتی جاء امر اللہ (75 : 41) ” یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آگیا “۔

وغرکم باللہ الغرور (75 : 41) ” اور آخر تک وہ بڑا دھوکہ باز تمہیں اللہ کے معاملے میں دھوکہ دیتا رہا۔ “ یہ شیطان تھا۔ تمہیں نئی نئی لالچیں دیتا اور تمناؤں کی دنیا میں بساتا۔ اب مومنین ان کو مزید یاد دلاتے ہیں اور فیصلہ سناتے ہیں گویا آج فیصلہ ان کے ہاتھ میں۔