Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-Ahzab 33:60

33:60
۞ لين لم ينته المنافقون والذين في قلوبهم مرض والمرجفون في المدينة لنغرينك بهم ثم لا يجاورونك فيها الا قليلا ٦٠
۞ لَّئِن لَّمْ يَنتَهِ ٱلْمُنَـٰفِقُونَ وَٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌۭ وَٱلْمُرْجِفُونَ فِى ٱلْمَدِينَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيهَآ إِلَّا قَلِيلًۭا ٦٠
۞ لَّئِن
لَّمۡ
يَنتَهِ
ٱلۡمُنَٰفِقُونَ
وَٱلَّذِينَ
فِي
قُلُوبِهِم
مَّرَضٞ
وَٱلۡمُرۡجِفُونَ
فِي
ٱلۡمَدِينَةِ
لَنُغۡرِيَنَّكَ
بِهِمۡ
ثُمَّ
لَا
يُجَاوِرُونَكَ
فِيهَآ
إِلَّا
قَلِيلٗا
٦٠
Sungguh, jika orang-orang munafik, orang-orang yang berpenyakit dalam hatinya dan orang-orang yang menyebarkan kabar bohong di Madinah tidak berhenti (dari menyakitimu), niscaya Kami perintahkan engkau (untuk memerangi) mereka, kemudian mereka tidak lagi menjadi tetanggamu (di Madinah) kecuali sebentar,
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 33:59 hingga 33:62

مسلمان عورت جب کسی ضرورت سے اپنے گھر کے باہر نکلے تو وہ کس طرح نکلے۔اس کو ایسے لباس میں نکلنا چاہيے جو اس بات کا ایک خاموش اعلان ہو کہ وہ ایک شریف اور حیادار عورت ہے۔ وہ سنجیدہ ضرورت کے تحت باہر نکلی ہے، نہ کہ تفریح اور دل لگی کےلیے۔ سادہ کپڑے، حیا دار چال، چادر یا برقعہ سے جسم ڈھکا ہوا ہونا اسی کی ایک علامت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جسمانی نمائش کے ساتھ باہر نکلنا دوسروں کو دعوتِ التفات دینا ہے۔ اور جسمانی نمائش کے بغیر نکلنا گویا عمل کی زبان میں دوسروں سے یہ کہنا ہے کہ میں صرف اپنے کام سے باہر نکلی ہوں، مجھے تم سے کوئی مطلب نہیں۔

’’دل کے مریضوں ‘‘ سے یہاں مراد غالباً یہود ہیں۔ کیوں کہ وہی لوگ مسلمانوں کو اور مسلم خواتین کو زیادہ پریشان کررہے تھے اور یہی لوگ تھے جو مذکورہ تنبیہ کے مطابق قتل کيے گئے یا شہر سے نکال دئے گئے تھے۔