Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-Hajj 22:60

22:60
۞ ذالك ومن عاقب بمثل ما عوقب به ثم بغي عليه لينصرنه الله ان الله لعفو غفور ٦٠
۞ ذَٰلِكَ وَمَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوقِبَ بِهِۦ ثُمَّ بُغِىَ عَلَيْهِ لَيَنصُرَنَّهُ ٱللَّهُ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌۭ ٦٠
۞ ذَٰلِكَۖ
وَمَنۡ
عَاقَبَ
بِمِثۡلِ
مَا
عُوقِبَ
بِهِۦ
ثُمَّ
بُغِيَ
عَلَيۡهِ
لَيَنصُرَنَّهُ
ٱللَّهُۚ
إِنَّ
ٱللَّهَ
لَعَفُوٌّ
غَفُورٞ
٦٠
Demikianlah, dan barangsiapa membalas setimpal dengan penganiayaan yang pernah dia derita kemudian dia terzalimi (lagi), pasti Allah akan menolongnya. Sungguh, Allah Maha Pemaaf, Maha Pengampun.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

اہل ایمان کو یہ تلقین کی گئی تھی کہ وہ اس خدا کے طریقہ کو اپنا طریقہ بنائیں جو غفور ورحیم ہے۔ وہ لوگوں کی زیادتیوں سے مسلسل در گزر کرتاہے۔ اور ان کو معاف فرماتا ہے۔ چنانچہ صحابہ کرام کا گروہ عام طورپر اسی اخلاقِ خداوندی پر قائم تھا۔ ان پر ظلم کیا جاتا تھا مگر وہ اس کو برداشت کرتے تھے۔ ان کے ساتھ اشتعال انگیز باتیں کی جاتی تھیں مگر وہ در گز رکرتے تھے۔

تاہم بعض مسلمانوں سے ایسا ہوا کہ ان کے ساتھ زیادتی کی گئی تو فوری جذبہ کے تحت انھوں نے جوابی کارروائی کی۔ ان کو نقصان پہنچایا گیا تو انھوںنے بھی کچھ نقصان پہنچایا۔ دشمنوں نے ا س کو بہانہ بنا کر مسلمانوںکے خلاف زبردست پروپیگنڈا کیا۔ وہ خود اپنی ظالمانہ کارروائیوں کو بھول گئے۔ البتہ مسلمانوں کے معمولی واقعہ کو ظلم قرار دے کر ان کو بدنام کرنا شروع کردیا۔

ایسا کرنا بدترین کمینہ پن ہے۔ جولوگ اس قسم کی کمینہ پن کا ثبوت دیں، وہ خدا کی غیرت کو چیلنج کرتے ہیں۔ بظاہر وہ ایک مسلمان کو ظالم ثابت کررہے ہیں۔ مگر حقیقت کی نظر میں وہ خود سب سے بڑے ظالم ہیں۔ وہ اپنے ظلم کی سخت ترین سزا پاکر رہیں گے۔ اس قسم کے جھوٹے پروپیگنڈوں سے وہ اہل حق کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے۔