Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Ibrahim 14:5

14:5
ولقد ارسلنا موسى باياتنا ان اخرج قومك من الظلمات الى النور وذكرهم بايام الله ان في ذالك لايات لكل صبار شكور ٥
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِـَٔايَـٰتِنَآ أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ ٱلظُّلُمَـٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ وَذَكِّرْهُم بِأَيَّىٰمِ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍۢ لِّكُلِّ صَبَّارٍۢ شَكُورٍۢ ٥
وَلَقَدۡ
أَرۡسَلۡنَا
مُوسَىٰ
بِـَٔايَٰتِنَآ
أَنۡ
أَخۡرِجۡ
قَوۡمَكَ
مِنَ
ٱلظُّلُمَٰتِ
إِلَى
ٱلنُّورِ
وَذَكِّرۡهُم
بِأَيَّىٰمِ
ٱللَّهِۚ
إِنَّ
فِي
ذَٰلِكَ
لَأٓيَٰتٖ
لِّكُلِّ
صَبَّارٖ
شَكُورٖ
٥
Dan sungguh, Kami telah mengutus Musa dengan membawa tanda-tanda (kekuasaan) Kami, (dan Kami perintahkan kepadanya), "Keluarkanlah kaummu dari kegelapan kepada cahaya terang-benderang dan ingatkanlah mereka kepada hari-hari Allah."1 Sungguh, pada yang demikian itu terdapat tanda-tanda (kekuasaan Allah) bagi setiap orang penyabar dan banyak bersyukur.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
نو نشانیاں ٭٭

” جیسے ہم نے تجھے اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے اور تجھ پر اپنی کتاب نازل فرمائی ہے کہ تو لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے آئے، اسی طرح ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کی طرف بھیجا تھا بہت سی نشانیاں بھی دی تھیں “، جن کا بیان آیت «وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَىٰ تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ فَاسْأَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذْ جَاءَهُمْ فَقَالَ لَهُ فِرْعَوْنُ إِنِّي لَأَظُنُّكَ يَا مُوسَىٰ مَسْحُورًا» [17-الإسراء:101] ‏ میں ہے۔

انہیں بھی یہی حکم تھا کہ ” لوگوں کو نیکیوں کی دعوت دے انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں اور جہالت و ضلالت سے ہٹا کر علم و ہدایت کی طرف لے آ۔ انہیں اللہ کے احسانات یاد دلا، کہ اللہ نے انہیں فرعون جیسے ظالم و جابر بادشاہ کی غلامی سے آزاد کیا ان کے لیے دریا کو کھڑا کر دیا ان پر ابر کا سایہ کر دیا ان پر من و سلوی اتارا اور بھی بہت سی نعمتیں عطا فرمائیں “۔

مسند کی مرفوع حدیث میں «بِأَيَّامِ اللَّهِ» کی تفسیر اللہ کی نعمتوں سے مروی ہے۔ [مسند احمد:122/5:حدیث صحیح و اسنادہ ضیعف] ‏ لیکن ابن جریر رحمہ اللہ میں یہ روایت سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہی سے موقوفاً بھی آئی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ ہم نے اپنے بندوں بنی اسرائیل کے ساتھ جو احسان کئے فرعون سے نجات دلوانا، اس کے ذلیل عذابوں سے چھڑوانا، اس میں ہر صابر و شاکر کے لیے عبرت ہے۔ جو مصیبت میں صبر کرے اور راحت میں شکر کرے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:418/7] ‏

صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مومن کا تمام کام عجیب ہے اسے مصیبت پہنچے تو صبر کرتا ہے وہی اس کے حق میں بہتر ہوتا ہے اور اگر اسے راحت و آرام ملے شکر کرتا ہے اس کا انجام بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے ۔ [صحیح مسلم:2999] ‏

صفحہ نمبر4191