Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-Ma'idah 5:113

5:113
قالوا نريد ان ناكل منها وتطمين قلوبنا ونعلم ان قد صدقتنا ونكون عليها من الشاهدين ١١٣
قَالُوا۟ نُرِيدُ أَن نَّأْكُلَ مِنْهَا وَتَطْمَئِنَّ قُلُوبُنَا وَنَعْلَمَ أَن قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَكُونَ عَلَيْهَا مِنَ ٱلشَّـٰهِدِينَ ١١٣
قَالُواْ
نُرِيدُ
أَن
نَّأۡكُلَ
مِنۡهَا
وَتَطۡمَئِنَّ
قُلُوبُنَا
وَنَعۡلَمَ
أَن
قَدۡ
صَدَقۡتَنَا
وَنَكُونَ
عَلَيۡهَا
مِنَ
ٱلشَّٰهِدِينَ
١١٣
Mereka berkata, "Kami ingin memakan hidangan itu agar hati kami jadi tenteram dan kami yakin bahwa engkau telah berkata benar kepada kami, dan kami menjadi orang-orang yang menyaksikan (hidangan itu)."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 5:112 hingga 5:113
بنی اسرائیل کی ناشکری اور عذاب الٰہی ٭٭

یہ مائدہ کا واقعہ ہے اور اسی کی وجہ سے اس سورت کا نام سورۃ المائدہ ہے یہ بھی جناب مسیح علیہ السلام کی نبوت کی ایک زبردست دلیل اور آپ علیہ السلام کا ایک اعلی معجزہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا سے آسمانی دستر خوان اتارا اور آپ علیہ السلام کی سچائی ظاہر کی۔ بعض ائمہ نے فرمایا ہے کہ اس کا ذکر موجودہ انجیل میں نہیں عیسائیوں نے اسے مسلمانوں سے لیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے آپ علیہ السلام سے تمنا کرتے ہیں کہ اگر ہو سکے تو اللہ تعالیٰ سے ایک خوان کھانے سے بھرا ہوا طلب کیجئے ایک قرأت میں آیت «‏ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيعُ رَبُّكَ» [5-المائدہ:112] ‏ یعنی ” کیا آپ سے یہ ہو سکتا ہے؟ کہ آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے دعا کریں؟ “۔

مائدہ کہتے ہیں اس دستر خوان کو جس پر کھانا رکھا ہوا ہو، بعض لوگوں کا بیان ہے کہ انہوں نے بوجہ فقر و فاقہ، تنگی اور حاجت کے یہ سوال کیا تھا، جناب مسیح علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ ”اللہ پر بھروسہ رکھو اور رزق کی تلاش کرو، ایسے انوکھے سوالات نہ کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ فتنہ ہو جائے اور تمہارے ایمان ڈگمگا جائیں۔‏“

انہوں نے جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول علیہ السلام ہم تو کھانے پینے سے تنگ ہو رہے ہیں محتاج ہو گئے ہیں اس سے ہمارے دل مطمئن ہو جائیں گے کیونکہ ہم اپنی آنکھوں سے اپنی روزیاں آسمان سے اترتی خود دیکھ لیں گے، اسی طرح آپ علیہ السلام پر جو ایمان ہے وہ بھی بڑھ جائے گا، آپ علیہ السلام کی رسالت کو یوں تو ہم مانتے ہی ہیں لیکن یہ دیکھ کر ہمارا یقین اور بڑھ جائے گا اور اس پر خود ہم گواہ بن جائیں گے، اللہ کی قدرت اور آپ علیہ السلام کے معجزہ کی یہ ایک روشن دلیل ہوگی جس کی شہادت ہم خود دیں گے اور یہ آپ علیہ السلام کی نبوت کی کافی دلیل ہوگی۔

صفحہ نمبر2504