Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-Munafiqun 63:10

63:10
وانفقوا من ما رزقناكم من قبل ان ياتي احدكم الموت فيقول رب لولا اخرتني الى اجل قريب فاصدق واكن من الصالحين ١٠
وَأَنفِقُوا۟ مِن مَّا رَزَقْنَـٰكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ أَحَدَكُمُ ٱلْمَوْتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوْلَآ أَخَّرْتَنِىٓ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ قَرِيبٍۢ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُن مِّنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ ١٠
وَأَنفِقُواْ
مِن
مَّا
رَزَقۡنَٰكُم
مِّن
قَبۡلِ
أَن
يَأۡتِيَ
أَحَدَكُمُ
ٱلۡمَوۡتُ
فَيَقُولَ
رَبِّ
لَوۡلَآ
أَخَّرۡتَنِيٓ
إِلَىٰٓ
أَجَلٖ
قَرِيبٖ
فَأَصَّدَّقَ
وَأَكُن
مِّنَ
ٱلصَّٰلِحِينَ
١٠
Dan infakkanlah sebagian dari apa yang telah Kami berikan kepadamu sebelum kematian datang kepada salah seorang di antara kamu; lalu dia berkata (menyesali), "Ya Tuhanku, sekiranya Engkau berkenan menunda (kematian)ku sedikit waktu lagi, maka aku dapat bersedekah dan aku akan termasuk orang-orang yang saleh."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 63:10 hingga 63:11
موت کے وقت خواہش اعمال ٭٭

اس آیت میں تو کافروں کی مذمت کا ذکر ہے، دوسری آیت میں نیک عمل میں کمی کرنے والوں کے افسوس کا بیان اس طرح ہوا ہے، «حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدهمْ الْمَوْت قَالَ رَبّ اِرْجِعُونِ لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْت كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ» [23-المؤمنون:99-100] ‏ یعنی ” جب ان میں سے کسی کو موت آنے لگتی ہے، تو کہتا ہے، میرے رب! مجھے لوٹا دے، تو میں نیک اعمال کر لوں “۔

یہاں فرماتا ہے ” موت کا وقت آگے پیچھے نہیں ہوتا، اللہ خود خبر رکھنے والا ہے کہ کون اپنے قول میں صادق ہے اور اپنے سوال میں حق بجانب ہے یہ لوگ تو اگر لوٹائے جائیں تو پھر ان باتوں کو بھول جائیں گے اور وہی کچھ کرنے لگ جائیں گے جو اس سے پہلے کرتے رہے “۔ ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہر وہ شخص جو مالدار ہو اور اس نے حج نہ کیا ہو یا زکوٰۃ نہ دی ہو وہ موت کے وقت دنیا میں واپس لوٹنے کی آرزو کرتا ہے، ایک شخص نے کہا: اللہ کا خوف کیجئے واپسی کی آرزو تو کافر کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: جلدی کیوں کرتے ہو؟ سنو! قرآن فرماتا ہے: پھر آپ نے یہ پورا رکوع تلاوت کر سنایا اس نے پوچھا: زکوٰۃ کتنے میں واجب ہے فرمایا: دو سو اور اس سے زیادہ میں، پوچھا: حج کب فرض ہو جاتا ہے، فرمایا: جب راہ خرچ اور سواری خرچ کی طاقت ہو۔ [سنن ترمذي:3316،قال الشيخ الألباني:-ضعیف] ‏

ایک مرفوع روایت بھی اسی طرح مروی ہے لیکن موقوف ہی زیادہ صحیح ہے، ضحاک رحمہ اللہ کی روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما والی بھی منقطع ہے، دسری سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے وہ بھی ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے زیادتی عمر کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اجل آ جائے پھر مؤخر نہیں ہوتی، زیادتی عمر صرف اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بندے کو نیک صالح اولاد دے، جو اس کے لیے اس کے مرنے کے بعد دعا کرتی رہے اور دعا اسے اس کی قبر میں پہنچتی رہے“ ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:اسنادہ موضوع] ‏

اللہ کے فضل و کرم اور لطف و رحم سے سورۃ المنافقون کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فَالْحَمْدُ لِلَّـهِ»

صفحہ نمبر9535