Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-Ankabut 29:63

29:63
ولين سالتهم من نزل من السماء ماء فاحيا به الارض من بعد موتها ليقولن الله قل الحمد لله بل اكثرهم لا يعقلون ٦٣
وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّن نَّزَّلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ فَأَحْيَا بِهِ ٱلْأَرْضَ مِنۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُ ۚ قُلِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ ٦٣
وَلَئِن
سَأَلۡتَهُم
مَّن
نَّزَّلَ
مِنَ
ٱلسَّمَآءِ
مَآءٗ
فَأَحۡيَا
بِهِ
ٱلۡأَرۡضَ
مِنۢ
بَعۡدِ
مَوۡتِهَا
لَيَقُولُنَّ
ٱللَّهُۚ
قُلِ
ٱلۡحَمۡدُ
لِلَّهِۚ
بَلۡ
أَكۡثَرُهُمۡ
لَا
يَعۡقِلُونَ
٦٣
Dan jika kamu bertanya kepada mereka, "Siapakah yang menurunkan air dari langit, lalu dengan (air) itu dihidupkannya bumi yang sudah mati?" Pasti mereka akan menjawab, "Allah." Katakanlah, "Segala puji bagi Allah," tetapi kebanyakan mereka tidak mengerti.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 29:61 hingga 29:63
توحید ربویت توحید الوہیت ٭٭

اللہ تعالیٰ ثابت کرتا ہے کہ معبود برحق صرف وہی ہے۔ خود مشرکین بھی اس بات کے قائل ہیں کہ آسمان و زمین کا پیدا کرنے والا، سورج کو مسخر کرنے والا، دن رات کو پے در پے لانے والا، خالق، رازق، موت و حیات پر قادر صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ غنا کے لائق کون ہے اور فقر کے لائق کون ہے؟ اپنے بندوں کی مصلحتیں اس کو پوری طرح معلوم ہیں۔

پس جبکہ مشرکین خود مانتے ہیں کہ تمام چیزوں کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، سب پر قابض صرف وہی ہے۔ پھر اس کے سوا دوسروں کی عبادت کیوں کرتے ہیں؟ اور اس کے سوا دوسروں پر توکل کیوں کرتے ہیں؟ جبکہ ملک کا مالک وہ تنہا ہے تو عبادتوں کے لائق بھی وہ اکیلا ہے۔ توحید ربوبیت کو مان کر پھر توحید الوہیت سے انحراف عجیب چیز ہے۔ قرآن کریم میں توحید ربوبیت کے ساتھ ہی توحید الوہیت کا ذکر بکثرت ہے۔ اس لیے کہ توحید ربویت کے قائل مشرکین مکہ تو تھے ہی، انہیں قائل معقول کر کے پھر توحید الوہیت کی طرف دعوت دی جاتی ہے۔ مشرکین حج و عمرے میں لبیک پکارتے ہوئے بھی اللہ کے لاشریک ہونے کا اقرار کرتے تھے، کہتے تھے: «لَبَیْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ اِلَّا شَرِیْکًا ھُوَ لَکَ تَمْلِکُہُ وَمَا مَلَکَ» یعنی یا اللہ! ہم حاضر ہوئے، تیرا کوئی شریک نہیں مگر ایسے شریک جن کا مالک اور جن کے ملک کا مالک بھی تو ہی ہے۔ [صحیح مسلم:1185] ‏

صفحہ نمبر6733