Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: An-Nahl 16:65

16:65
والله انزل من السماء ماء فاحيا به الارض بعد موتها ان في ذالك لاية لقوم يسمعون ٦٥
وَٱللَّهُ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ فَأَحْيَا بِهِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَآ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يَسْمَعُونَ ٦٥
وَٱللَّهُ
أَنزَلَ
مِنَ
ٱلسَّمَآءِ
مَآءٗ
فَأَحۡيَا
بِهِ
ٱلۡأَرۡضَ
بَعۡدَ
مَوۡتِهَآۚ
إِنَّ
فِي
ذَٰلِكَ
لَأٓيَةٗ
لِّقَوۡمٖ
يَسۡمَعُونَ
٦٥
Dan Allah menurunkan air (hujan) dari langit dan dengan air itu dihidupkan-Nya bumi yang tadinya sudah mati. Sungguh, pada yang demikian itu benar-benar terdapat tanda-tanda (kebesaran Allah) bagi orang-orang yang mendengarkan (pelajaran).
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 16:63 hingga 16:65
شیطان کے دوست ٭٭

” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم تسلی رکھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کا جھٹلانا کوئی انوکھی بات نہیں کون سا نبی علیہ السلام آیا جو جھٹلایا نہ گیا؟ باقی رہے جھٹلانے والے وہ شیطان کے مرید ہیں۔ برائیاں انہیں شیطانی وسواس سے بھلائیاں دکھائی دیتی ہیں۔ ان کا ولی شیطان ہے وہ انہیں کوئی نفع پہنچانے والا نہیں۔ ہمیشہ کے لیے مصیبت افزا عذابوں میں چھوڑ کر ان سے الگ ہو جائے گا “۔

قرآن حق و باطل میں سچ جھوٹ میں تمیز کرانے والی کتاب ہے، ہر جھگڑا اور ہر اختلاف کا فیصلہ اس میں موجود ہے۔ یہ دلوں کے لیے ہدایت ہے اور ایماندار جو اس پر عامل ہیں، ان کے لیے رحمت ہے۔ اس قرآن سے کس طرح مردہ دل جی اٹھتے ہیں، اس کی مثال مردہ زمین اور بارش کی ہے جو لوگ بات کو سنیں، سمجھیں وہ تو اس سے بہت کچھ عبرت حاصل کر سکتے ہیں۔

صفحہ نمبر4476